كِتَاب التَّفْسِيرِ قران مجيد كي تفسير كا بيان

حدثني حدثني عبد الله بن مطيع ، حدثنا هشيم ، عن ابي بشر ، عن سعيد بن جبير ، قال: قلت: لابن عباس " سورة التوبة، قال: آلتوبة، قال: بل هي الفاضحة ما زالت تنزل ومنهم ومنهم حتى ظنوا ان لا يبقى منا احد إلا ذكر فيها، قال: قلت: سورة الانفال، قال: تلك سورة بدر، قال: قلت: فالحشر قال: نزلت في بني النضير ".

‏‏‏‏ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: سورہ توبہ۔ انہوں نے کہا: توبہ وہ سورت تو ذلیل کرنے والی ہے اور فضیحت کرنے والی (کافروں اور منافقوں کی) اس سورت میں برابر اتر رہا «وَمِنْهُمْ» «وَمِنْهُمْ» یعنی لوگوں کے احوال کچھ ایسے کچھ ایسے ہیں، یہاں تک لوگ سمجھے کہ کوئی باقی نہ رہے گا جس کا ذکر نہ کیا جائے گا اس سورت میں۔ میں نے کہا: سورہ انفال۔ انہوں نے کہا: وہ سورت تو بدر کی لڑائی کے باب میں ہے (اس میں لوٹ اور غنیمت کے احکام مذکور ہیں)۔ میں نے کہا: سورہ حشر، انہوں نے کہا: وہ بنی نضیر کے باب میں اتری۔

صحيح مسلم # 7558
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp