كِتَاب التَّفْسِيرِ قران مجيد كي تفسير كا بيان

حدثنا حدثنا محمد بن بشار ، حدثنا محمد بن جعفر . ح وحدثني ابو بكر بن نافع واللفظ له، حدثنا غندر ، حدثنا شعبة ، عن سلمة بن كهيل ، عن مسلم البطين ، عن سعيد بن جبير ، عن ابن عباس ، قال: " كانت المراة تطوف بالبيت وهي عريانة، فتقول: من يعيرني تطوافا تجعله على فرجها، وتقول:. اليوم يبدو بعضه او كله فما بدا منه فلا احله " " فنزلت هذه الآية خذوا زينتكم عند كل مسجد سورة الاعراف آية 31.

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، عورت (جاہلیت کے زمانہ میں) خانہ کعبہ کا طواف ننگی ہو کر کرتی اور کہتی: کون دیتا ہے مجھ کو ایک کپڑا ڈالتی اس کو اپنی شرمگاہ پر اور کہتی: آج کھل جائے گا سب یا بعض، پھر جو کھل جائے گا اس کو کبھی حلال نہ کروں گی (یعنی وہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو گیا۔ یہ واہی رسم اسلام نے موقوف کر دی) تب یہ آیت اتری «خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ» (۷-الأعراف: ۳۱) یعنی ہر مسجد کے پاس اپنے کپڑے پہن کر جا‎ؤ۔

صحيح مسلم # 7551
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp