كِتَاب التَّفْسِيرِ قران مجيد كي تفسير كا بيان

حدثنا حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم ، واحمد بن عبدة الضبي واللفظ لابن ابي شيبة، قال: حدثنا، وقال الآخران: اخبرنا سفيان ، عن عمرو ، عن عطاء ، عن ابن عباس ، قال: " لقي ناس من المسلمين رجلا في غنيمة له، فقال: السلام عليكم، فاخذوه فقتلوه واخذوا تلك الغنيمة، فنزلت 0 ولا تقولوا لمن القى إليكم السلم لست مؤمنا 0 وقراها ابن عباس السلام ".

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، مسلمانوں کے کچھ لوگوں نے ایک شخص کو دیکھا تھوڑی بکریوں میں۔ وہ بولا: السلام علیکم مسلمانوں نے اس کو پکڑا اور قتل کیا اور وہ بکریاں لے لیں۔ تب یہ آیت اتری «وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا» مت کہو اس کو جو سلام کرے تم کو یہ کہہ کر کہ تو مسلمان نہیں ہے۔ (اپنی جان بچانے کے لیے سلام کرتا ہے)۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت میں «سلام» پڑھا ہے اور بعضوں نے «سلم» پڑھا ہے (تو معنی یہ ہوں گے جو تم سے صلح سے پیش آئے)۔

صحيح مسلم # 7548
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp