كِتَاب التَّفْسِيرِ قران مجيد كي تفسير كا بيان

حدثني حدثني عبد الله بن هاشم ، وعبد الرحمن بن بشر العبدي ، قالا: حدثنا يحيى وهو ابن سعيد القطان ، عن ابن جريج ، حدثني القاسم بن ابي بزة ، عن سعيد بن جبير ، قال: قلت لابن عباس " المن قتل مؤمنا متعمدا من توبة؟، قال: لا، قال: فتلوت عليه هذه الآية التي في الفرقان والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق سورة الفرقان آية 68 إلى آخر الآية، قال: هذه آية مكية نسختها آية مدنية، ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا سورة النساء آية 93. وفي رواية ابن هاشم، فتلوت عليه هذه الآية التي في الفرقان إلا من تاب سورة الفرقان آية 70 ".

‏‏‏‏ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: جو کوئی مومن کو قصداً قتل کرے اس کی توبہ ہو سکتی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں۔ میں نے ان کو یہ آیت سنائی جو سورۂ فرقان میں ہے «وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ» آخر تک جس کے بعد یہ ہے «إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ» کیونکہ اس سے یہ نکلتا ہے کہ ناحق خون کے بعد توبہ کر سکتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آیت مکی ہے اور اس کو منسوخ کر دیا ہے اس آیت نے جو مدینہ میں اتری «وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا» آخر تک جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو عمداً قتل کرے اس کا بدلہ ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے۔

صحيح مسلم # 7545
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp