حدثنا حدثنا محمد بن المثنى ، ومحمد بن بشار ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن منصور ، عن سعيد بن جبير ، قال: " امرني عبد الرحمن بن ابزى، ان اسال ابن عباس ، عن هاتين الآيتين ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها سورة النساء آية 93، فسالته، فقال: لم ينسخها شيء، وعن هذه الآية والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق سورة الفرقان آية 68، قال: نزلت في اهل الشرك ".
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھو ان دونوں آیتوں کے متعلق «وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا» آخر تک۔۔ میں نے پوچھا: انہوں نے کہا: یہ آیت منسوح نہیں ہے اور «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّـهُ إِلَّا بِالْحَقِّ» (۲۵-الفرقان: ۶۸) یعنی ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کسی کو معبود نہیں پکارتے، اور جو جان اللہ تعالیٰ نے حرام کی ہے اس کو نہیں مارتے مگر حق سے۔“ اس کے بعد یہ ہے «إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا» (۲۵-الفرقان: ۶۹) یعنی ”جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے۔“ یہ آیت سورۂ فرقان میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کی توبہ مقبول ہے تو بظاہر پہلی آیت کے مخالف ٹھہری)۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ آیت مشرکوں کے حق میں اتری ہے (اور پہلی مومنوں کے حق میں ہے تو مومن جب مومن کو قصداً مارے اس کی توبہ قبول نہ ہو گی البتہ اگر مشرک حالت شرک میں مارے پھر ایمان لائے اور توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہو گی۔ اس صورت میں دونوں آیتوں میں مخالفت نہ رہی)۔