كِتَاب التَّفْسِيرِ قران مجيد كي تفسير كا بيان

حدثنا حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبدة بن سليمان ، حدثنا هشام ، عن ابيه ، عن عائشة " وإن امراة خافت من بعلها نشوزا او إعراضا سورة النساء آية 128 الآية، قالت: انزلت في المراة تكون عند الرجل، فتطول صحبتها، فيريد طلاقها، فتقول: لا تطلقني وامسكني، وانت في حل مني فنزلت هذه الآية ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، یہ آیت (سورۂ نساء میں) «وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا» (۴-النساء: ۱۲۸) آخر تک۔ یعنی اگر کوئی عورت ڈرے اپنے خاوند سے شرارت سے یا اس کی بے پروائی سے تو کچھ گناہ نہیں دونوں پر اگر وہ صلح کر لیں آپس میں۔ اس عورت کے باب میں اتری جو ایک شخص کے پاس ہو، پھر وہ مدت تک اس کے پاس رہے، اب خاوند اس کو طلاق دینا چاہے (اس سے بیزار ہو کر) وہ عورت یہ کہے: مجھ کو طلاق نہ دے اور رہنے دے اور میں نے تجھ کو اجازت دی (دوسری عورت کے پاس رہنے کی اور میرے پاس نہ رہنے کی) تب یہ آیت اتری۔

صحيح مسلم # 7537
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp