كِتَاب التَّفْسِيرِ قران مجيد كي تفسير كا بيان

حدثنا حدثنا ابو كريب ، حدثنا ابو اسامة ، اخبرنا هشام ، عن ابيه ، عن عائشة في قوله " ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن سورة النساء آية 127 الآية، قالت: هي اليتيمة التي تكون عند الرجل لعلها ان تكون قد شركته في ماله حتى في العذق، فيرغب يعني ان ينكحها ويكره ان ينكحها رجلا، فيشركه في ماله فيعضلها ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، «يَسْتَفْتُونَكَ فِى النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ» آخر تک یہ آیت اس یتیم لڑکی کے باب میں ہے جو ایک شخص کے پاس ہو اور شریک ہو اس کے مال میں یہاں تک کہ کھجور کے درختوں میں بھی۔ پھر وہ اس سے نکاح کرنا نہ چاہے اور نہ یہ چاہے کہ اس کا نکاح دوسرے سے کر دے کہ وہ اس کے مال میں شریک ہو پھر اس کو یونہی ڈال رکھے۔

صحيح مسلم # 7532
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp