حدثنا هارون بن معروف ، ومحمد بن عباد ، وتقاربا في لفظ الحديث، والسياق لهارون، قالا: حدثنا حاتم بن إسماعيل ، عن يعقوب بن مجاهد ابي حزرة ، عن عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت ، قال: " خرجت انا وابي نطلب العلم في هذا الحي من الانصار قبل ان يهلكوا، فكان اول من لقينا ابا اليسر صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه غلام له معه ضمامة من صحف، وعلى ابي اليسر بردة ومعافري وعلى غلامه بردة ومعافري، فقال له ابي: يا عم إني ارى في وجهك سفعة من غضب؟، قال: اجل كان لي على فلان ابن فلان الحرامي مال، فاتيت اهله، فسلمت، فقلت: ثم هو، قالوا: لا فخرج علي ابن له جفر، فقلت له: اين ابوك؟، قال: سمع صوتك فدخل اريكة امي، فقلت: اخرج إلي فقد علمت اين انت فخرج، فقلت: ما حملك على ان اختبات مني؟، قال: انا والله احدثك، ثم لا اكذبك خشيت والله ان احدثك فاكذبك، وان اعدك فاخلفك وكنت صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكنت والله معسرا، قال: قلت: آلله، قال: الله، قلت: آلله، قال: الله، قلت: آلله، قال: الله، قال: فاتى بصحيفته، فمحاها بيده، فقال: إن وجدت قضاء، فاقضني وإلا انت في حل، فاشهد بصر عيني هاتين، ووضع إصبعيه على عينيه وسمع اذني هاتين ووعاه قلبي هذا، واشار إلى مناط قلبه رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو يقول: من انظر معسرا او وضع عنه اظله الله في ظله،
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں اور میرا باپ دونوں نکلے دین کا علم حاصل کرنے کے لیے انصار کے قبیلہ میں قبل اس کے کہ وہ مر جائیں۔ (یعنی انصار سے صحابہ کی حدیث سننے کے لیے) تو سب پہلے ہم ابوالیسر سے ملے جو صحابی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، ان کے ساتھ ان کا ایک غلام بھی تھا جو کتابوں (خطوں) کا یک گھٹا لیے ہوئے تھا اور ابوالیسر کے بدن پر ایک چادر تھی اور ایک کپڑا تھا معافری (معافر ایک گاؤں ہے وہاں کا کپڑا اس کو معافری کہتے ہیں یا معافر ایک قبیلہ ہے) ان کے غلام پر بھی ایک چادر تھی اور ایک کپڑا تھا معافری (یعنی میاں اور غلام دونوں ایک ہی طرح کا لباس پہنے تھے) میں نے ان سے کہا: اے چچا! تمہارا چہرہ رنج کا نشان معلوم ہوتا ہے۔ وہ بولے: ہاں میرا قرض آتا تھا فلاں پر جو فلانے کا بیٹا ہے بنی حرام کے قبیلہ میں سے۔ میں اس کے گھر والوں کے پاس گیا اور سلام کیا اور پوچھا: وہ شخص کہاں ہے؟ اس کا ایک بیٹا جو جوانی کے قریب تھا باہر نکلا۔ میں نے اس سے پوچھا: تیرا باپ کہاں ہے؟ وہ بولا: تمہاری آواز سن کر میری ماں کے چھپر کھٹ میں گھس گیا۔ تب تو میں نے آواز دی اور کہا: اے فلانے! باہر نکل میں نے جان لیا تو جہاں ہے۔ یہ سن کر وہ نکلا۔ میں نے کہا: تو مجھ سے چھپ کیوں گیا؟ وہ بولا: اللہ کی قسم! میں جو تم سے کہوں گا جھوٹ نہیں کہوں گا میں ڈرا اللہ کی قسم کہ تم سے جھوٹ بات کروں یا تم سے وعدہ کروں اور خلاف کروں اور تم صحابی ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور میں قسم اللہ کی محتاج ہوں۔ میں نے کہا: سچ اللہ کی قسم تو محتاج ہے؟ وہ بولا: قسم اللہ کی۔ میں نے کہا: قسم اللہ کی۔ وہ بولا: قسم اللہ کی۔ میں نے کہا: قسم اللہ کی۔ وہ بولا: قسم اللہ کی۔ پھر اس کا تمسک لایا گیا۔ ابوالیسر نے اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا دیا اور کہا: اگر تیرے پاس روپیہ آئے تو ادا کرنا نہیں تو تو آزاد ہے تو میری ان دونوں آنکھوں کی بصارت نے دیکھا اور ابوالیسر نے اپنی دونوں انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھیں اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا اور ابوالیسر نے اشارہ کیا اپنے دل کی رگ کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کو معاف کر دے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ میں رکھے گا۔“