وحدثني محمد بن عمرو بن عباد بن جبلة بن ابي رواد ، حدثنا محمد بن جعفر . ح وحدثني ابو بكر بن نافع ، اخبرنا غندر ، قال: شعبة حدثنا، عن خالد الحذاء ، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة ، عن ابيه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه ذكر عنده رجل، فقال رجل: يا رسول الله، ما من رجل بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم افضل منه في كذا وكذا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " ويحك قطعت عنق صاحبك مرارا، يقول ذلك: ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن كان احدكم مادحا اخاه لا محالة، فليقل احسب فلانا، إن كان يرى انه كذلك ولا ازكي على الله احدا " ,
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر آیا ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! اللہ کے رسول کے بعد کوئی شخص اس سے بہتر نہیں فلاں فلاں کام میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر افسوس! تو نے اپنے صاحب کی گردن کاٹی۔“ کئی بار یہ فرمایا پھر فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تعریف کرنا چاہے ضرور بالضرور تو یوں کہے: میں خیال کرتا ہوں (اگر وہ واقعی ایسا ہو) کہ وہ ایسا ہے اس پر بھی میں اللہ کے سامنے کسی کی اچھا نہیں کہتا۔“ (یعنی معلوم نہیں کہ وہ اللہ کے نزدیک کیسا ہے کیونکہ یہ علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں یا جس کو اللہ بتلائے۔)