حدثنا يحيى بن حبيب الحارثي ، حدثنا المعتمر ، قال: سمعت إسماعيل ، عن قيس ، عن سعد . ح وحدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، حدثنا ابي ، وابن بشر ، قالا: حدثنا إسماعيل ، عن قيس ، قال: سمعت سعد بن ابي وقاص ، يقول: " والله إني لاول رجل من العرب رمى بسهم في سبيل الله، ولقد كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لنا طعام ناكله إلا ورق الحبلة، وهذا السمر حتى إن احدنا ليضع كما تضع الشاة، ثم اصبحت بنو اسد تعزرني على الدين لقد خبت إذا وضل عملي ولم يقل ابن نمير إذا "،
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے تھے: قسم اللہ کی میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیر مارا اللہ کی راہ میں اور ہم جہاد کرتے تھے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوتا مگر پتے حبلہ اور سمر کے (یہ دونوں جنگلی درخت ہیں) یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایسا پاخانہ پھرتا جیسے بکری پھرتی ہے۔ پھر آج بنو اسد کے لوگ (یعنی زبیر رضی اللہ عنہ کی اولاد) مجھ کو دین کی باتیں سکھلاتے ہیں یا دین کے لیے تنبیہ کرتے ہیں یا سزا دینا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو بالکل نقصان میں پڑا اور میری محنت ضائع ہو گئی۔