كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ زہد اور رقت انگیز باتیں

حدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب ، حدثنا سليمان يعني ابن بلال ، عن جعفر ، عن ابيه ، عن جابر بن عبد الله ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بالسوق داخلا من بعض العالية، والناس كنفته فمر بجدي اسك ميت، فتناوله فاخذ باذنه، ثم قال: " ايكم يحب ان هذا له بدرهم "، فقالوا: ما نحب انه لنا بشيء، وما نصنع به، قال: " اتحبون انه لكم؟ "، قالوا: والله لو كان حيا كان عيبا فيه لانه اسك، فكيف وهو ميت؟، فقال: " فوالله للدنيا اهون على الله من هذا عليكم "،

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آ رہے تھے کسی عالیہ کی طرف سے (عالیہ وہ گاؤں ہیں جو مدینہ کے باہر بلندی پر واقع ہیں) اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک طرف یا دونوں طرف تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بھیڑ کا بچہ چھوٹے کان والا مردہ دیکھا، اس کا کان پکڑا پھر فرمایا: تم میں سے کون یہ لیتا ہے ایک درہم کو؟ لوگوں نے عرض کیا: ہم ایک درہم سے کم میں بھی اس کو لینا نہیں چاہتے (یعنی کسی چیز کے بدلے) اور ہم اس کو کیا کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم چاہتے ہو کہ یہ تم کو مل جائے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی اس میں عیب تھا کہ کان اس کے بہت چھوٹے ہیں پھر مرنے پر اس کو کون لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! دنیا اللہ جل جلالہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جیسے یہ تمہارے نزدیک۔

صحيح مسلم # 7418
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp