كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثنا يحيى بن حبيب الحارثي ، حدثنا خالد بن الحارث الهجيمي ابو عثمان ، حدثنا قرة ، حدثنا سيار ابو الحكم ، حدثنا الشعبي ، قال: دخلنا على فاطمة بنت قيس ، فاتحفتنا برطب، يقال له: رطب ابن طاب واسقتنا سويق سلت، فسالتها عن المطلقة ثلاثا اين تعتد، قالت: طلقني بعلي ثلاثا، فاذن لي النبي صلى الله عليه وسلم ان اعتد في اهلي، قالت: فنودي في الناس إن الصلاة جامعة، قالت: فانطلقت فيمن انطلق من الناس، قالت: فكنت في الصف المقدم من النساء وهو يلي المؤخر من الرجال، قالت: فسمعت النبي صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر يخطب، فقال: إن بني عم لتميم الداري ركبوا في البحر، وساق الحديث وزاد فيه، قالت: فكانما انظر إلى النبي صلى الله عليه وسلم واهوى بمخصرته إلى الارض، وقال: هذه طيبة يعني المدينة،

‏‏‏‏ شعبی سے روایت ہے، ہم فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے ہم کو تحفہ دیا رطب جس کو رطب بن طاب کہتے ہیں(وہ ایک عمدہ قسم ہیں تر کھجور کی) اور جو کے ستو ہم کو پلائے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں وہ کہاں عدت کرے؟ انہوں نے کہا: میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اجازت دی اپنے میکے میں عدت کرنے کی۔ پھر لوگوں میں منادی کی گئی نماز کے لیے جمع ہوں، میں بھی چلی ان کے ساتھ جو چلے اور عورتوں کی پہلی صف میں تھی جو مردوں کی آخری صف کے بعد تھی۔ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ پڑھتے تھے تو فرمایا: تمیم داری کے چچازاد بھائی سمندر میں سوار ہوئے۔ پھر بیان کیا وہی قصہ جو گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پشت خار زمین پر مارا اور فرمایا: طیبہ یہی ہے۔ یعنی مدینہ۔

صحيح مسلم # 7387
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp