كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث ، وحجاج بن الشاعر كلاهما، عن عبد الصمد واللفظ لعبد الوارث بن عبد الصمد، حدثنا ابي، عن جدي ، عن الحسين بن ذكوان ، حدثنا ابن بريدة ، حدثني عامر بن شراحيل الشعبيشعب همدان، انه سال فاطمة بنت قيس اخت الضحاك بن قيس، وكانت من المهاجرات الاول، فقال: حدثيني حديثا سمعتيه من رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تسنديه إلى احد غيره، فقالت: لئن شئت لافعلن؟، فقال لها: اجل حدثيني، فقالت: نكحت ابن المغيرة وهو من خيار شباب قريش يومئذ، فاصيب في اول الجهاد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما تايمت خطبني عبد الرحمن بن عوف في نفر من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، وخطبني رسول الله صلى الله عليه وسلم على مولاه اسامة بن زيد، وكنت قد حدثت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " من احبني فليحب اسامة "، فلما كلمني رسول الله صلى الله عليه وسلم، قلت: امري بيدك فانكحني من شئت، فقال: " انتقلي إلى ام شريك، وام شريك امراة غنية من الانصار عظيمة النفقة في سبيل الله ينزل عليها الضيفان "، فقلت: سافعل، فقال: " لا تفعلي إن ام شريك امراة كثيرة الضيفان، فإني اكره ان يسقط عنك خمارك او ينكشف الثوب عن ساقيك، فيرى القوم منك بعض ما تكرهين، ولكن انتقلي إلى ابن عمك عبد الله بن عمرو ابن ام مكتوم وهو رجل من بني فهر فهر قريش، وهو من البطن الذي هي منه "، فانتقلت إليه، فلما انقضت عدتي سمعت نداء المنادي منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم ينادي الصلاة جامعة، فخرجت إلى المسجد فصليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكنت في صف النساء التي تلي ظهور القوم، فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته جلس على المنبر وهو يضحك، فقال: " ليلزم كل إنسان مصلاه "، ثم قال: " اتدرون لم جمعتكم؟ "، قالوا: الله ورسوله اعلم، قال: " إني والله ما جمعتكم لرغبة ولا لرهبة، ولكن جمعتكم لان تميما الداري كان رجلا نصرانيا، فجاء فبايع واسلم، وحدثني حديثا وافق الذي كنت احدثكم عن مسيح الدجال، حدثني انه ركب في سفينة بحرية مع ثلاثين رجلا من لخم وجذام، فلعب بهم الموج شهرا في البحر، ثم ارفئوا إلى جزيرة في البحر حتى مغرب الشمس، فجلسوا في اقرب السفينة، فدخلوا الجزيرة، فلقيتهم دابة اهلب كثير الشعر لا يدرون ما قبله من دبره من كثرة الشعر، فقالوا: ويلك ما انت؟، فقالت: انا الجساسة، قالوا: وما الجساسة؟، قالت: ايها القوم انطلقوا إلى هذا الرجل في الدير، فإنه إلى خبركم بالاشواق، قال: لما سمت لنا رجلا، فرقنا منها ان تكون شيطانة، قال: فانطلقنا سراعا حتى دخلنا الدير، فإذا فيه اعظم إنسان رايناه قط خلقا، واشده وثاقا مجموعة يداه إلى عنقه ما بين ركبتيه إلى كعبيه بالحديد، قلنا: ويلك ما انت؟، قال: قد قدرتم على خبري، فاخبروني ما انتم؟، قالوا: نحن اناس من العرب ركبنا في سفينة بحرية، فصادفنا البحر حين اغتلم، فلعب بنا الموج شهرا، ثم ارفانا إلى جزيرتك هذه، فجلسنا في اقربها فدخلنا الجزيرة، فلقيتنا دابة اهلب كثير الشعر لا يدرى ما قبله من دبره من كثرة الشعر، فقلنا: ويلك ما انت؟، فقالت: انا الجساسة، قلنا: وما الجساسة؟، قالت: اعمدوا إلى هذا الرجل في الدير، فإنه إلى خبركم بالاشواق، فاقبلنا إليك سراعا وفزعنا منها، ولم نامن ان تكون شيطانة، فقال: اخبروني عن نخل بيسان؟، قلنا: عن اي شانها تستخبر؟، قال: اسالكم عن نخلها هل يثمر؟، قلنا له: نعم، قال: اما إنه يوشك ان لا تثمر؟، قال: اخبروني عن بحيرة الطبرية؟، قلنا: عن اي شانها تستخبر؟، قال: هل فيها ماء؟، قالوا: هي كثيرة الماء، قال: اما إن ماءها يوشك ان يذهب؟، قال: اخبروني عن عين زغر؟، قالوا: عن اي شانها تستخبر؟، قال: هل في العين ماء وهل يزرع اهلها بماء العين؟، قلنا له: نعم، هي كثيرة الماء واهلها يزرعون من مائها، قال: اخبروني عن نبي الاميين ما فعل؟، قالوا: قد خرج من مكة ونزل يثرب، قال: اقاتله العرب؟، قلنا: نعم، قال: كيف صنع بهم، فاخبرناه انه قد ظهر على من يليه من العرب واطاعوه، قال لهم: قد كان ذلك؟، قلنا: نعم، قال: اما إن ذاك خير لهم ان يطيعوه، وإني مخبركم عني إني انا المسيح، وإني اوشك ان يؤذن لي في الخروج، فاخرج فاسير في الارض، فلا ادع قرية إلا هبطتها في اربعين ليلة غير مكة، وطيبة فهما محرمتان علي كلتاهما، كلما اردت ان ادخل واحدة او واحدا منهما استقبلني ملك بيده السيف صلتا يصدني عنها، وإن على كل نقب منها ملائكة يحرسونها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وطعن بمخصرته في المنبر، هذه طيبة، هذه طيبة، هذه طيبة يعني المدينة، الا هل كنت حدثتكم ذلك؟، فقال الناس: نعم، فإنه اعجبني حديث تميم انه وافق الذي كنت احدثكم عنه وعن المدينة ومكة، الا إنه في بحر الشام او بحر اليمن، لا بل من قبل المشرق ما هو من قبل المشرق، ما هو من قبل المشرق، ما هو واوما بيده إلى المشرق "، قالت: فحفظت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم،

‏‏‏‏ سیدنا عامر بن شراحیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے، جو بہن تھیں ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی اور ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے پہلے ہجرت کی تھی کہ بیان کرو مجھ سے ایک حدیث جو تم نے سنی ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور مت واسطہ کرنا اس میں اور کسی کا، وہ بولیں: اچھا اگر تم یہ چاہتے ہو تو میں بیان کروں گی۔ انہوں نے کہا: ہاں بیان کرو۔ فاطمہ نے کہا: میں نے نکاح کیا ابن مغیرہ سے اور وہ قریش کے عمدہ جوانوں میں سے تھے ان دنوں، پھر وہ شہید ہوئے پہلے ہی جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ جب میں بیوہ ہو گئی تو مجھ کو پیام بھیجا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور کئی اصحاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پیام بھیجا اپنے مولیٰ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لیے اور میں یہ حدیث سن چکی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے محبت رکھے اس کو چاہیے کہ اسامہ سے بھی محبت رکھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اس باب میں گفتگو کی تو میں نے کہا: میرے کام کا اختیار آپ کو ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس سے چاہیں نکاح کر دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام شریک کے گھر اٹھ جاؤ۔ اور ام شریک ایک عورت تھی مالدار انصار میں بہت خرچنے والی اللہ کی راہ میں۔ اس کے پاس مہمان اترتے تھے۔ میں نے عرض کیا: بہت اچھا۔ میں ام شریک کے پاس اٹھ جاؤں گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام شریک کے پاس مت جا اس کے پاس مہمان بہت آتے ہیں اور مجھے برا معلوم ہوتا ہے کہیں تیری اوڑھنی گر جائے یا تیری پنڈلیوں پر سے کپڑا ہٹ جائے اور لوگ تیرے بدن میں سے وہ دیکھیں جو تجھ کو برا لگے لیکن چلی جا اپنے چچا کے بیٹے عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے پاس۔ اور وہ ایک شخص تھا بنی فہر میں سے اور فہر قریش کی ایک شاخ ہے اور وہ اس قبیلہ میں سے تھا جس میں سے فاطمہ بھی تھی۔ پھر فاطمہ نے کہا: میں ان کے گھر میں چلی گئی۔ جب میری عدت گزر گئی تو میں نے پکارنے والے کی آواز سنی وہ پکارنے والا منادی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، پکارتا تھا نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔ میں بھی مسجد کی طرف نکلی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ میں اس صف میں تھی جس میں عورتیں تھیں لوگوں کے پیچھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو منبر پر بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک آدمی اپنی نماز کی جگہ پر رہے۔ پھر فرمایا: تم جانتے ہو میں نے تم کو کیوں اکھٹا کیا؟ وہ بولے: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم کو رغبت دلانے یا ڈرانے کے لیے جمع نہیں کیا بلکہ اس لیے جمع کیا کہ تمیم داری ایک نصرانی تھا وہ آیا اور اس نے بیعت کی اور مسلمان ہوا اور مجھ سے ایک حدیث بیان کی جو موافق پڑی اس حدیث کے جو میں تم سے بیان کیا کرتا تھا دجال کے باب میں۔ اس نے بیان کیا کہ وہ شخص یعنی تمیم سوار ہوا سمندر کے جہاز میں تیس آدمیوں کے ساتھ جو لخم اور جذام کی قوم سے تھے، سو ان سے ایک مہینہ بھر لہر کھیلی سمندر میں (یعنی شدت موج سے جہاز تباہ رہا) پھر وہ لوگ جا لگے سمندر میں ایک ٹاپو کی طرف سورج ڈوبتے۔ پھر وہ جہاز سے پلوار (یعنی چھوٹی کشتی) میں بیٹھے اور ٹاپوں میں داخل ہوئے۔ وہاں ان کو ایک جانور بھاری دم بہت بالوں والا ملا کہ اس کا آگا پیچھا دریافت نہ ہوتا تھا بالوں کے ہجوم سے تو لوگوں نے اس سے کہا: اے کمبخت! تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا: میں جاسوس ہوں۔ لوگوں نے کہا: جاسوس کیا؟ اس نے کہا: اس مرد کے پاس چلو جو دیر میں ہے اس واسطے کہ وہ تمہاری خبر کا بہت مشتاق ہے۔ تمیم نے کہا: جب اس نے مرد نام لیا تو ہم اس جانور سے ڈرے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو۔ تمیم نے کہا: پھر ہم چلے دوڑتے یہاں تک کہ دیر میں داخل ہوئے، دیکھا تو وہاں ایک بڑے قد کا آدمی ہے کہ ہم نے اتنا بڑا آدمی اور ویسا سخت جکڑا ہوا کبھی نہیں دیکھا۔ جکڑے ہوئے ہیں اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ درمیان دونوں زانو کے درمیان ٹخنوں تک لوہے سے۔ ہم نے کہا: اے کمبخت! تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا: تم قابو پا گئے میری خبر پر (یعنی میرا حال تو تم کو اب معلوم ہو جائے گا) تم اپنا حال بتاؤ کہ تم کون ہو؟ لوگوں نے کہا: ہم عرب لوگ ہیں جو سمندر میں سوار ہوئے تھے جہاز میں لیکن جب ہم سوار ہوئے تو سمندر کو جوش میں پایا پھر ایک مہینے کی مدت تک لہر ہم سے کھیلتی رہی بعد اس کے آ لگے اس ٹاپو میں، پھر ہم بیٹھے چھوٹی کشتی میں اور داخل ہوئے ٹاپو میں سو ملا ہم کو ایک بھاری دم کا جانور بہت بالوں والا۔ ہم نہ جانتے تھے اس کا آگا پیچھا بالوں کی کثرت سے، ہم نے اس سے کہا: اے کمبخت! تو کیا چیز ہے؟ سو اس نے کہا: میں جاسوس ہوں، ہم نے کہا: جاسوس کیا؟ اس نے کہا: چلو اس مرد کے پاس جو دیر میں ہے کہ البتہ وہ تمہاری خبر کا مشتاق ہے، سو ہم تیری طرف دوڑتے آئے اور ہم اس ڈرے کہ کہیں یہ بھوت پریت نہ ہو۔ پھر اس مرد نے کہا کہ مجھ کو خبر دو بیسان کے نخلستان سے؟ ہم نے کہا: کون سا حال اس کا تو پوچھتا ہے؟ اس نے کہا: کہ میں نخلستان کے بارے میں پوچھتا ہوں کہ پھل دیتا ہے؟ ہم نے اس سے کہا: ہاں پھل دیتا ہے۔ اس نے کہا: خبردار ہو کہ مقرر عنقریب ہے کہ وہ نہ پھل دے گا۔ اس نے کہا: کہ بتلاؤ مجھ کو طبرستان کا دریا؟ ہم نے کہا: کون سا حال اس دریا کا تو پوچھتا ہے؟ وہ بولا: اس میں پانی ہے؟ لوگوں نے کہا: اس میں بہت پانی ہے۔ اس نے کہا: البتہ اس کا پانی عنقریب جاتا رہے گا۔ پھر اس نے کہا: خبر دو مجھ کو زغر کے چشمے سے۔ لوگوں نے کہا: کیا حال اس کا پوچھتا ہے؟ اس نے کہا: اس چشمہ میں پانی ہے اور وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں؟ ہم نے اس سے کہا: ہاں اس میں بہت پانی ہے اور وہاں کے لوگ کھیتی کرتے ہیں اس کے پانی سے۔ اس نے کہا: مجھ کو خبر دو عرب کے پیغمبر سے؟ انہوں نے کہا: وہ مکہ سے نکلے اور مدینہ میں گئے۔ اس نے کہا: کیا عرب کے لوگ ان سے لڑے؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: کیونکر انہوں نے عربوں کے ساتھ کیا؟ ہم نے کہا: وہ غالب ہوئے اپنے گردوپیش کے عربوں پر اور انہوں نے اطاعت کی ان کی۔ اس نے کہا: یہ بات ہو چکی؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: خبردار رہو، یہ بات ان کے حق میں بہتر ہے کہ پیغمبر کے تابعدار ہوں اور البتہ میں تم سے اپنا حال کہتا ہوں کہ مسیح ہوں یعنی دجال تمام زمین کا پھرنے والا اور البتہ وہ زمانہ قریب ہے جب مجھ کو اجازت ہو گی نکلنے کی۔ سو میں نکلوں گا اور سیر کروں گا اور کسی بستی کو نہ چھوڑوں گا جہاں نہ جاؤں چالیس رات کے اندر سوائے مکہ اور طیبہ کے۔ وہاں جانا مجھ پر حرام ہے یعنی منع ہے۔ جب میں چاہوں گا ان دو بستیوں میں سے کسی ایک کے اندر جانا تو میرے آگے بڑھ آئے گا ایک فرشتہ اور اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہو گی وہ مجھ کو وہاں جانے سے روک دے گا اور البتہ اس کے ہر ایک ناکہ پر فرشتے ہوں گے جو اس کی چوکیداری کریں گے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پشت خار سے منبر پر ٹکوار دیا اور فرمایا: طیبہ یہی ہے، طیبہ یہی ہے، طیبہ یہی ہے۔ یعنی طیبہ سے مراد مدینہ منورہ ہے۔ خبردار رہو! بھلا میں تم کو اس حال کی خبر دے چکا ہوں؟ تو اصحاب نے کہا: ہاں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ کو اچھی لگی تمیم کی بات جو موافق پڑی اس چیز کے جو میں تم کو دجال، مدینہ اور مکہ کے حال سے فرما دیا کرتا تھا۔ خبردار رہو کہ البتہ وہ دریائے شام یا دریائے یمن میں نہیں ہے بلکہ وہ پورب کی طرف ہے وہ پورب کی طرف ہے وہ پورب کی طرف ہے۔ (وہ پورب کی طرف بحرہند ہے شاید دجال بحرہند کے کسی جزیرہ میں ہو) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا پورب کی طرف۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: تو یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی۔

صحيح مسلم # 7386
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp