كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري ، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة ، عن النعمان بن سالم ، قال: سمعت يعقوب بن عاصم بن عروة بن مسعود الثقفي ، يقول: سمعت عبد الله بن عمرو ، وجاءه رجل، فقال: ما هذا الحديث تحدث به؟، تقول: إن الساعة تقوم إلى كذا وكذا، فقال: سبحان الله او لا إله إلا الله، او كلمة نحوهما لقد هممت ان لا احدث احدا شيئا ابدا إنما، قلت: إنكم سترون بعد قليل امرا عظيما يحرق البيت ويكون ويكون، ثم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يخرج الدجال في امتي، فيمكث اربعين لا ادري اربعين يوما، او اربعين شهرا، او اربعين عاما، فيبعث الله عيسى ابن مريم، كانه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه، ثم يمكث الناس سبع سنين ليس بين اثنين عداوة، ثم يرسل الله ريحا باردة من قبل الشام، فلا يبقى على وجه الارض احد في قلبه مثقال ذرة من خير او إيمان، إلا قبضته حتى لو ان احدكم دخل في كبد جبل لدخلته عليه حتى تقبضه "، قال: سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " فيبقى شرار الناس في خفة الطير واحلام السباع، لا يعرفون معروفا، ولا ينكرون منكرا، فيتمثل لهم الشيطان، فيقول: الا تستجيبون، فيقولون: فما تامرنا فيامرهم بعبادة الاوثان، وهم في ذلك دار رزقهم حسن عيشهم، ثم ينفخ في الصور، فلا يسمعه احد إلا اصغى ليتا ورفع ليتا، قال واول من يسمعه: رجل يلوط حوض إبله، قال: فيصعق ويصعق الناس، ثم يرسل الله، او قال ينزل الله مطرا كانه الطل او الظل نعمان الشاك، فتنبت منه اجساد الناس ثم ينفخ فيه اخرى، فإذا هم قيام ينظرون، ثم يقال: يا ايها الناس هلم إلى ربكم، وقفوهم إنهم مسئولون، قال: ثم يقال اخرجوا بعث النار، فيقال: من كم، فيقال: من كل الف تسع مائة وتسعة وتسعين، قال: فذاك يوم يجعل الولدان شيبا وذلك يوم يكشف عن ساق "،

‏‏‏‏ یعقوب بن عاصم بن عروہ مسعود ثقفی سے روایت ہے، میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے یہ لگا: یہ حدیث کیا ہے جو تم بیان کرتے ہو کہ قیامت اتنی مدت میں ہو گی؟ انہوں نے کہا: (تعجب سے) سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی کلمہ مانند ان کے پھر کہا: میرا قصد ہے کہ اب کسی سے کوئی حدیث بیان نہ کروں (کیونکہ لوگ کچھ کہتے ہیں اور مجھ کو بدنام کرتے ہیں) میں نے تو یہ کہا تھا: تم تھوڑے دنوں بعد ایک بڑا حادثہ دیکھو گے جو گھر جلائے گا، اور وہ ہو گا ضرور ہو گا۔ پھر کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس دن تک رہے گا۔ میں نہیں جانتا چالیس دن فرمایا یا چالیس مہینے یا چالیس برس۔ پھر اللہ تعالیٰ عیسٰی بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا ان کی شکل عروہ بن مسعود کی سی ہے۔ وہ دجال کو ڈھونڈیں گے اور اس کو ماریں گے۔ پھر سات برس تک لوگ ایسے رہیں گے کہ دو شخصوں میں کوئی دشمنی نہ ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا شام کی طرف سے تو زمین پر کوئی ایسا نہ رہے گا جس کے دل میں رتی برابر ایمان یا بھلائی ہو مگر یہ ہوا اس کی جان نکال لے گی یہاں تک کہ اگر کوئی تم میں سے پہاڑ کے کلیجہ میں گھس جائے تو وہاں بھی یہ ہوا پہنچ کر اس کی جان نکال لے گی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: پھر برے لوگ دنیا میں رہ جائیں گے جلد باز چڑیوں کی طرح یا بے عقل اور درندرں کی طرح ان کے اخلاق ہوں گے۔ نہ وہ اچھی بات کو اچھا سمجھیں گے نہ بری بات کو برا۔ پھر شیطان ایک صورت بنا کر ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: تم شرم نہیں کرتے۔ وہ کہیں گے: پھر تو کیا حکم دیتا ہے ہم کو؟ شیطان کہے گا بت پرستی کرو۔ وہ بت پوجیں گے اور باوجود اس کے ان کی روزی کشادہ ہو گی، مزے سے زندگی بسر کریں گے۔ پھر صور پھونکا جائے گا۔ اس کو کوئی نہ سنے گا مگر ایک طرف سے گردن جھکائے گا اور دوسری طرف سے اٹھ لے گا (یعنی بے ہوش ہو کر گر پڑے گا) اور سب سے پہلے صور کو وہ سنے گا جو اپنے اونٹوں کے حوض پر کلاوہ کرتا ہو گا۔ وہ بے ہوش ہو جائے گا اور دوسرے لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ پانی برسائے گا جو نطفہ کی طرح ہو گا۔ اس سے لوگوں کے بدن اگ آئیں گے۔ پھر صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے۔ پھر پکارا جائے گا: اے لوگو! اپنے مالک کے پاس آؤ کھڑا کرو ان کو، ان سے سوال ہو گا، پھر کہا جائے گا: ایک لشکر نکالو دوزخ کے لیے پوچھا جائے گا: کتنے لوگ؟ حکم ہو گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے نکالو دوزخ کے لیے۔ (اور ہزار میں سے ایک جنتی ہو گا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی وہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا (ہیبت اور مصیبت سے یا درازی سے) اور یہی وہ دن ہے جب پنڈلی کھلے گی۔ (یعنی سختی ہو گی)۔

صحيح مسلم # 7381
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp