حدثنا شهاب بن عباد العبدي ، حدثنا إبراهيم بن حميد الرؤاسي ، عن إسماعيل بن ابي خالد ، عن قيس بن ابي حازم ، عن المغيرة بن شعبة ، قال: ما سال احد النبي صلى الله عليه وسلم عن الدجال اكثر مما سالت، قال: " وما ينصبك منه إنه لا يضرك؟ "، قال: قلت: يا رسول الله، إنهم يقولون إن معه الطعام والانهار، قال: " هو اهون على الله من ذلك ".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے دجال کا حال اتنا نہیں پوچھا، جتنا میں نے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیوں فکر کرتا ہے، دجال تجھ کو نقصان نہ پہنچائے گا۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ کھانا ہو گا، نہریں ہوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو گا پر اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ذلیل ہے یعنی جو اس کے پاس ہو گا اس سے وہ مؤمنوں کو گمراہ نہ کر سکے گا۔“ (یہ حدیث کا حاصل ہے اور یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے)۔