كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثنا علي بن حجر السعدي ، حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ، والوليد بن مسلم ، قال ابن حجر: دخل حديث احدهما في حديث الآخر، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر بهذا الإسناد، نحو ما ذكرنا وزاد بعد قوله لقد كان بهذه مرة ماء، ثم يسيرون حتى ينتهوا إلى جبل الخمر، وهو جبل بيت المقدس، فيقولون: لقد قتلنا من في الارض هلم، فلنقتل من في السماء، فيرمون بنشابهم إلى السماء، فيرد الله عليهم نشابهم مخضوبة دما، وفي رواية ابن حجر، فإني قد انزلت عباد إلي لا يدي لاحد بقتالهم.

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی یہ حدیث اسی سند سے مروی ہے، اس میں اس جملہ کے بعد کہ اس جگہ کسی موقعہ پر پانی تھا۔ یہ اضافہ ہے کہ پھر وہ خمر کے پہاڑ کے پاس پہنچیں گے اور وہ بیت المقدس کا پہاڑ ہے تو وہ کہیں گے: تحقیق! ہم نے زمین والے سب کو قتل کر دیا۔ آؤ ہم آسمان والوں کو قتل کریں پھر وہ اپنے تیروں کو پھینکیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان پر ان کے تیروں کو خون آلود کر کے لوٹائے گا۔ اور ابن حجر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ میں نے اپنے ایسے بندوں کو نازل کیا ہے، جنہیں قتل کرنے پر کسی کو قدرت حاصل نہیں ہے۔

صحيح مسلم # 7374
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp