حدثنا علي بن حجر ، حدثنا شعيب بن صفوان ، عن عبد الملك بن عمير ، عن ربعي بن حراش ، عن عقبة بن عمرو ابي مسعود الانصاري ، قال: انطلقت معه إلى حذيفة بن اليمان ، فقال له عقبة حدثني ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم في الدجال، قال: " إن الدجال يخرج وإن معه ماء ونارا، فاما الذي يراه الناس ماء، فنار تحرق، واما الذي يراه الناس نارا، فماء بارد عذب، فمن ادرك ذلك منكم، فليقع في الذي يراه نارا، فإنه ماء عذب طيب "، فقال عقبة : وانا قد سمعته تصديقا لحذيفة.
ربعی بن حراش نے کہا: میں عقبہ بن عمرو ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ عقبہ نے کہا: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے: تم مجھ سے بیان کرو جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں سنا ہو، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال نکلے گا اس کے ساتھ پانی ہو گا اور آگ ہو گی۔ تو جس کو لوگ پانی دیکھیں گے وہ آگ ہو گی جلانے والی اور جس کو لوگ آگ دیکھیں گے وہ پانی ہو گا سرد اور شیریں۔ پھر جو کوئی تم میں سے یہ موقع پائے اس کو چاہیے کہ جو آگ معلوم ہو اس میں گر پڑے۔ اس لیے کہ وہ شیریں پاکیزہ پانی ہے۔“ عقبہ نے کہا: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو سچ کرنے کے لیے کہ میں نے بھی یہ حدیث سنی ہے۔