كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثنا يحيى بن حبيب ، ومحمد بن عبد الاعلى ، قالا: حدثنا معتمر ، قال: سمعت ابي يحدث، عن ابي نضرة ، عن ابي سعيد الخدري ، قال: قال لي ابن صائد " واخذتني منه ذمامة هذا عذرت الناس ما لي، ولكم يا اصحاب محمد، الم يقل نبي الله صلى الله عليه وسلم: إنه يهودي، وقد اسلمت، قال: ولا يولد له، وقد ولد لي، وقال: إن الله قد حرم عليه مكة، وقد حججت، قال: فما زال حتى كاد ان ياخذ في قوله، قال: فقال له: اما والله إني لاعلم الآن حيث هو واعرف اباه وامه، قال: وقيل له: ايسرك انك ذاك الرجل؟، قال: فقال: لو عرض علي ما كرهت ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ابن صیاد نے مجھ سے گفتگو کی تو مجھ کو شرم آ گئی (اس کے برا کہنے میں) وہ کہنے لگا: میں نے لوگوں کے سامنے عذر کیا اور کہنے لگا: کیا ہوا تم کو میرے ساتھ اصحاب محمد کے! کیا رسول اللہ نے نہیں فرمایا: دجال یہودی ہو گا۔ اور میں تو مسلمان ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ دجال کے اولاد نہ ہو گی۔ میری تو اولاد ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرام کیا ہے دجال پر۔ اور میں نے تو حج کیا۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ برابر ایسی گفتگو کرتا رہا کہ قریب ہوا کہ میں اس کو سچا سمجھوں اور اس کی بات میرے دل میں کھب جائے۔ پھر کہنے لگا: البتہ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ اب دجال کہاں ہے اور اس کے باپ اور ماں کو بھی پہچانتا ہوں۔ لوگوں نے ابن صیاد سے کہا: بھلا تجھ کو یہ اچھا لگتا ہے کہ تو دجال ہو؟ وہ بولا: اگر مجھ کو دجال بنایا جائے تو میں ناپسند نہ کروں۔

صحيح مسلم # 7349
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp