كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثني عبيد الله بن عمر القواريري ، ومحمد بن المثنى ، قالا: حدثنا عبد الاعلى ، حدثنا داود ، عن ابي نضرة ، عن ابي سعيد الخدري ، قال: صحبت ابن صائد إلى مكة، فقال لي: " اما قد لقيت من الناس يزعمون اني الدجال؟ الست سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: إنه لا يولد له؟، قال: قلت: بلى، قال: فقد ولد لي، اوليس سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يدخل المدينة، ولا مكة؟ قلت: بلى، قال: فقد ولدت بالمدينة، وهذا انا اريد مكة، قال: ثم قال لي في آخر قوله: اما والله إني لاعلم مولده، ومكانه واين هو، قال: فلبسني ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں ابن صیاد کے ساتھ گیا مکہ تک۔ وہ مجھ سے کہنے لگا: لوگ مجھے کیا کیا کہتے ہیں، میں دجال ہوں۔ کیا تم نے رسول اللہ سے نہیں سنا، آپ فرماتے تھے: دجال کی اولاد نہ ہو گی۔ اور میری تو اولاد ہے۔ کیا تم نے رسول اللہ سے نہیں سنا، آپ فرماتے تھے: وہ مکہ اور مدینہ میں نہ آئے گا۔ میں نے کہا: ہاں سنا ہے۔ ابن صیاد بولا: میں تو مدینہ میں پیدا ہوا اور اب مکہ جاتا ہوں۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آخر میں ابن صیاد کہنے لگا: البتہ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں دجال کہاں پیدا ہوا اور اب وہ کہاں ہے۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: تو مجھ کو اس نے شبہ میں ڈال دیا (اخیر کی بات کہہ کر کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو دجال سے کچھ نہ کچھ تعلق ضرور ہے ورنہ اس کا مقام کیونکر اس کو معلوم ہوا۔ نووی رحمہ اللہ نے کہا: ابن صیاد کی یہ دلیلیں کہ اس کی اولاد ہے اور وہ مدینہ میں پیدا ہوا مکہ میں جاتا ہے کچھ کافی نہیں کیونکہ یہ صفات دجال کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بتلائی ہیں جب وہ فساد کرنے دنیا میں نکلے گا نہ کہ پیشتر کی)۔

صحيح مسلم # 7348
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp