حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، وإسحاق بن إبراهيم ، وابو كريب ، واللفظ لابي كريب، قال ابن نمير: حدثنا، وقال الآخران: اخبرنا ابو معاوية ، حدثنا الاعمش ، عن شقيق ، عن عبد الله ، قال: كنا نمشي مع النبي صلى الله عليه وسلم، فمر بابن صياد، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قد خبات لك خبيئا "، فقال: دخ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اخسا فلن تعدو قدرك "، فقال عمر: يا رسول الله، دعني فاضرب عنقه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " دعه، فإن يكن الذي تخاف لن تستطيع قتله ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم چل رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتنے میں ابن صیاد ملا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے دل میں تیرے لیے ایک بات چھپائی ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا تصور کیا «فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ» ۴۴-الدخان: ١٠)۔ ابن صیاد بولا: «دخ» ہے تمہارے دل میں (یعنی دھواں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چل مردود تو اپنے اندازے سے کبھی نہ بڑھ سکے گا۔“ (یعنی شیطان اور جن کاہنوں کو اتنا ہی بتا سکتے ہیں کہ سارے جملے میں سے ایک آدھ لفظ وہ بھی الٹ پلٹ کر بنا دیتے ہیں جیسے تو نے پوری آیت میں سے صرف ایک «دخان» کا لفظ بتا دیا۔ بس تیرا اتنا ہی مقدور ہے برخلاف پیغمبروں کے کہ ان کو اللہ تعالیٰ پوری اور صاف بات بتلا دیتا ہے)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھ کو چھوڑیئے میں اس کی گردن ماروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانے دے، اگر یہ وہ ہے جس سے تو ڈرتا ہے (یعنی دجال) تو تو اس کو مار نہ سکے گا۔“