كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثنا عثمان بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم ، واللفظ لعثمان، قال إسحاق: اخبرنا، وقال عثمان: حدثنا جرير ، عن الاعمش ، عن ابي وائل ، عن عبد الله ، قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فمررنا بصبيان فيهم ابن صياد، ففر الصبيان وجلس ابن صياد، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم كره ذلك، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: " تربت يداك اتشهد اني رسول الله؟ "، فقال: لا بل تشهد اني رسول الله، فقال عمر بن الخطاب: ذرني يا رسول الله حتى اقتله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن يكن الذي ترى فلن تستطيع قتله ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو بچوں پر سے گزرے۔ ان میں ابن صیاد تھا۔ سب لڑکے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر) بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا معلوم ہوا (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گمان تھا گو یقین نہ تھا کہ یہ دجال ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے، تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ وہ بولا: نہیں۔ بلکہ تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھ کو چھوڑئیے میں اس کو قتل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہ ہے جو تو خیال کرتا ہے (یعنی دجال ہے) تو تو اس کو نہ مار سکے گا۔ (اور جو دجال نہیں ہے تو اس کے مارنے سے کیا فائدہ)۔

صحيح مسلم # 7344
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp