حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا عبد العزيز يعني ابن محمد ، عن ثور وهو ابن زيد الديلي ، عن ابي الغيث ، عن ابي هريرة ، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " سمعتم بمدينة جانب منها في البر، وجانب منها في البحر؟ "، قالوا: نعم يا رسول الله، قال: " لا تقوم الساعة حتى يغزوها سبعون الفا من بني إسحاق، فإذا جاءوها نزلوا، فلم يقاتلوا بسلاح ولم يرموا بسهم، قالوا: لا إله إلا الله والله اكبر، فيسقط احد جانبيها، قال: ثور لا اعلمه إلا، قال: الذي في البحر، ثم يقولوا الثانية: لا إله إلا الله والله اكبر، فيسقط جانبها الآخر، ثم يقولوا الثالثة: لا إله إلا الله والله اكبر، فيفرج لهم فيدخلوها، فيغنموا فبينما هم يقتسمون المغانم إذ جاءهم الصريخ، فقال: إن الدجال قد خرج فيتركون كل شيء ويرجعون "،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سنا ہے ایسا شہر جس کے ایک جانب خشکی ہے اور ایک جانب سمندر ہے؟“ اصحاب نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! ہم نے سنا ہے (یعنی قسطنطینیہ ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ لڑیں گے اس شہر سے ستر ہزار سیدنا اسحاق کی اولاد سے، سو جب اس شہر کے پاس آئیں گے تو اتر پڑیں گے، سو ہتھیار سے نہ لڑیں گے اور نہ تیر ماریں گے «لا اله الا الله والله اكبر» کہیں گے، تو اس کی ایک طرف جو دریا میں ہے گر پڑے گی، پھر دوسری بار «لا اله الا الله والله اكبر» کہیں گے تو اس کی دوسری طرف گر پڑے گی۔ پھر تیسری بار «لا اله الا الله والله اكبر» کہیں گے تو ہر طرف سے کھل جائے گا۔ سو اس شہر میں گھس پڑیں گے اور لوٹیں گے جب لوٹ کے مال بانٹ رہے ہوں گے کہ اچانک ایک چیخنے والا آئے گا اور کہے گا: دجال نکلا، تو وہ ہر چیز کو چھوڑ دیں گے اور دجال کی طرف پلٹیں گے۔“