حدثنا ابو كامل الجحدري ، وابو معن زيد بن يزيد واللفظ لابي معن قالا: حدثنا خالد بن الحارث ، حدثنا عبد الحميد بن جعفر ، عن الاسود بن العلاء ، عن ابي سلمة ، عن عائشة ، قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " لا يذهب الليل والنهار حتى تعبد اللات والعزى "، فقلت: يا رسول الله، إن كنت لاظن حين انزل الله هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشركون سورة التوبة آية 33، ان ذلك تاما، قال: " إنه سيكون من ذلك ما شاء الله، ثم يبعث الله ريحا طيبة فتوفى كل من في قلبه مثقال حبة خردل من إيمان، فيبقى من لا خير فيه فيرجعون إلى دين آبائهم "،
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، میں نے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، فرمایا: ”رات اور دن ختم نہ ہوں گے جب تک لات اور عزیٰ (یہ دونوں بت تھے جاہلیت کے) پھر نہ پوجے جائیں گے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تو سمجھتی تھی جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ» (۹-التوبة: ٣٣) ”اللہ وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس کو غالب کرے سب دینوں پر اگرچہ برا مانیں مشرک لوگ کہ یہ وعدہ پورا ہونے والا ہے (اور سوائے اسلام کے) اور کوئی دین دنیا میں غالب نہ رہے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا ہو گا جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہے، پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جس کی وجہ سے ہر مؤمن مر جائے گا یہاں تک کہ ہر وہ شخص جس کے دل میں دانے برابر بھی ایمان ہو گا مر جائے گا اور وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں بھلائی نہیں ہے، پھر وہ لوگ اپنے (مشرک) باپ دادا کے دین پر لوٹ جائیں گے۔“