كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثنا عبد الله بن عمر بن ابان ، وواصل بن عبد الاعلى ، واللفظ لابن ابان، واحمد بن عمر الوكيعي ، قالوا: حدثنا ابن فضيل ، عن ابيه ، قال: سمعت سالم بن عبد الله بن عمر ، يقول: يا اهل العراق ما اسالكم عن الصغيرة، واركبكم للكبيرة، سمعت ابي عبد الله بن عمر ، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " إن الفتنة تجيء من هاهنا، واوما بيده نحو المشرق من حيث يطلع قرنا الشيطان، وانتم يضرب بعضكم رقاب بعض، وإنما قتل موسى الذي قتل من آل فرعون خطا، فقال الله عز وجل له وقتلت نفسا فنجيناك من الغم وفتناك فتونا سورة طه آية 40 "، قال احمد بن عمر في روايته: عن سالم، لم يقل سمعت.

‏‏‏‏ سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے تھے: اے عراق والو! میں تم سے چھوٹے گناہ نہیں پوچھتا نہ اس کو پوچھتا ہوں جو کبیرہ گناہ کرتا ہو۔ میں نے سنا اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے وہ کہتے تھے: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: فتنہ ادھر سے آئے گا۔ اور اشارہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے پورب کی طرف، جہاں شیطان کے دونوں قرن نکلتے ہیں اور تم ایک دوسرے کی گردن مارتے ہو (حالانکہ مؤمن کا قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے) اور سیدنا موسٰی علیہ السلام نے جو فرعون کی قوم کا ایک شخص مارا تھا وہ خطا سے مارا تھا (نہ بہ نیت قتل کیونکہ گھونسے سے آدمی نہیں مرتا) اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو نے ایک خون کیا پھر ہم نے تجھ کو نجات دی غم سے اور تجھ کو آزمایا جیسا آزمایا تھا۔

صحيح مسلم # 7297
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp