كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث ، حدثني عبد الله بن وهب ، اخبرني الليث بن سعد ، حدثني موسى بن علي ، عن ابيه ، قال: قال المستورد القرشي عند عمرو بن العاص، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " تقوم الساعة والروم اكثر الناس "، فقال له عمرو: ابصر ما تقول، قال: اقول: ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: لئن، قلت: " ذلك إن فيهم لخصالا اربعا إنهم لاحلم الناس عند فتنة، واسرعهم إفاقة بعد مصيبة، واوشكهم كرة بعد فرة وخيرهم لمسكين ويتيم وضعيف، وخامسة حسنة جميلة، وامنعهم من ظلم الملوك ".

‏‏‏‏ مستورد قرشی نے کہا: سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے روبرو کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: قیامت اس وقت قائم ہو گی جب نصاریٰ سب لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔ (یعنی ہندو اور مسلمانوں سے) عمرو نے کہا: دیکھ تو کیا کہتا ہے۔ مستورد نے کہا: میں تو وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ عمرو نے کہا: اگر تو کہتا ہے (تو سچ ہے) کیوں کہ نصاریٰ میں چار خصلتیں ہیں وہ مصیبت کے وقت نہایت بردباد ہیں اور مصیبت کے بعد سب سے جلدی ہوشیار ہوتے ہیں اور بھاگنے کے بعد سب سے پہلے حملہ کرتے ہیں اور بہتر ہیں سب لوگوں میں مسکین یتیم اور ضعیف کے لیے اور ایک پانچویں خصلت ہے جو نہایت عمدہ ہے سب لوگوں سے وہ بادشاہوں کے ظلم کو روکتے ہیں۔

صحيح مسلم # 7279
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp