كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثنا ابو كامل فضيل بن حسين ، وابو معن الرقاشي ، واللفظ لابي معن، قالا: حدثنا خالد بن الحارث ، حدثنا عبد الحميد بن جعفر ، اخبرني ابي ، عن سليمان بن يسار ، عن عبد الله بن الحارث بن نوفل ، قال: كنت واقفا مع ابي بن كعب ، فقال: لا يزال الناس مختلفة اعناقهم في طلب الدنيا، قلت: اجل، قال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " يوشك الفرات ان يحسر عن جبل من ذهب، فإذا سمع به الناس ساروا إليه، فيقول من عنده: لئن تركنا الناس ياخذون منه ليذهبن به كله، قال: فيقتتلون عليه، فيقتل من كل مائة تسعة وتسعون "، قال ابو كامل في حديثه: قال: وقفت انا وابي بن كعب في ظل اجم حسان.

‏‏‏‏ عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے، میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا تھا، انہوں نے کہا: ہمیشہ لوگ دنیا کمانے کی فکر میں رہیں گے۔ میں نے کہا: ہاں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: قریب ہے کہ فرات میں ایک سونے کا پہاڑ نمودار ہو۔ لوگ جب یہ سنیں گے تو اس طرف چلیں گے اور جو لوگ وہاں ہوں گے وہ کہیں گے: اگر ہم لوگوں کو اس پہاڑ میں سے لینے دیں تو وہ سارا پہاڑ لے جائیں گے۔ آخر لڑیں گے تو فیصدی ننانوے آدمی مارے جائیں گے۔ ابوکامل نے کہا: اپنی روایت میں، میں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ دونوں حسان کے قلعہ کے سایہ میں کھڑے تھے۔

صحيح مسلم # 7276
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp