كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

وحدثنا محمد بن المثنى ، ومحمد بن حاتم ، قالا: حدثنا معاذ بن معاذ ، حدثنا ابن عون ، عن محمد ، قال: قال جندب : جئت يوم الجرعة، فإذا رجل جالس، فقلت: ليهراقن اليوم هاهنا دماء؟، فقال ذاك الرجل: كلا والله، قلت: بلى والله، قال: كلا والله، قلت: بلى والله، قال: كلا والله، إنه لحديث رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثنيه، قلت: " بئس الجليس لي انت منذ اليوم تسمعني اخالفك وقد سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا تنهاني، ثم قلت: ما هذا الغضب؟، فاقبلت عليه واساله، فإذا الرجل حذيفة .

‏‏‏‏ محمد سے روایت ہے، جندب نے کہا: میں یوم الجرعہ (یعنی جس دن جرعہ میں فساد ہونے کو تھا، جرعہ ایک مقام ہے کوفہ میں جہاں کوفہ والے سعید بن عاص سے لڑنے کے لیے جمع ہوئے تھے جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو کوفہ کا حاکم کر کے بھیجا تھا) کوآیا ایک شخص کو دیکھا بیٹھے ہوئے، میں نے کہا: آج تو یہاں کئی خون ہوں گے۔ وہ شخص بولا: ہرگز نہیں اللہ کی قسم! خون نہ ہوں گے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ضرور خون ہوں گے۔ وہ بولا: اللہ کی قسم! ہرگز خون نہ ہوں گے اور میں نے اس باب میں ایک حدیث سنی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمائی تھی۔ میں نے کہا: تو برا ساتھی ہے آج سے اس لیے کہ تو سنتا ہے میں تیرا خلاف کر رہا ہوں اور تو نے ایک حدیث سنی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور مجھے منع نہیں کرتا۔ پھر میں نے کہا: اس غصے سے کیا فائدہ؟ اور میں اس شخص کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا تو معلوم ہوا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔

صحيح مسلم # 7271
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp