كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، ومحمد بن العلاء ابو كريب جميعا، عن ابي معاوية ، قال ابن العلاء حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش ، عن شقيق ، عن حذيفة ، قال: كنا عند عمر، فقال: ايكم يحفظ حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم في الفتنة كما قال؟، قال: فقلت: انا، قال: إنك لجريء، وكيف قال؟، قال: قلت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " فتنة الرجل في اهله وماله ونفسه وولده وجاره، يكفرها الصيام والصلاة والصدقة، والامر بالمعروف والنهي عن المنكر "، فقال عمر: ليس هذا اريد إنما اريد التي تموج كموج البحر، قال: فقلت: ما لك ولها يا امير المؤمنين، إن بينك وبينها بابا مغلقا، قال: افيكسر الباب ام يفتح؟، قال: قلت: لا بل يكسر، قال: ذلك احرى ان لا يغلق ابدا، قال: فقلنا: لحذيفة هل كان عمر يعلم من الباب؟، قال: نعم، كما يعلم ان دون غد الليلة إني حدثته حديثا ليس بالاغاليط، قال: فهبنا ان نسال حذيفة من الباب، فقلنا لمسروق: سله فساله، فقال عمر "،

‏‏‏‏ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے، انہوں نے کہا: تم میں سے کس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہے فتنے کے باب میں؟ میں نے کہا: مجھ کو یاد ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم بڑے بہادر ہو بھلا کہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ میں نے کہا: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: آدمی کو جو فتنہ ہوتا ہے اس کے گھر والوں، مال، جان، اولاد اور ہمسایہ سے اس کا کفارہ ہو جاتا ہے روزہ، نماز، صدقہ، اچھی بات کا حکم کرنا اور بری بات سے منع کرنا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس فتنہ کو نہیں پوچھتا میں تو اس فتنہ کو پوچھتا ہوں جو موج مارے گا دریا کی موج کی طرح (یعنی اس کا اثر سب مسلمانوں کو پہنچے گا) میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! آپ کو اس فتنہ سے کیا غرض ہے آپ کے اور اس کے درمیان تو ایک بند دروازہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ دروازہ ٹوٹ جائے گا یا کھل جائے گا؟ میں نے کہا: نہیں وہ ٹوٹ جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا ہے تو پھر کبھی بند نہ ہو گا (کیونکہ جب دروازہ ٹوٹ گیا تو بند کیسے ہو سکتا ہے)۔ شقیق نے کہا: ہم لوگوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا۔ فرمایا ہاں، جیسے یہ معلوم تھا کہ کل کہ دن کے بعد رات ہے۔ اور میں نے ان سے ایک حدیث بیان کی تھی جو لغو نہ تھی۔ شقیق نے کہا: ہم لوگ ڈرے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھنے میں کہ وہ دروازہ کون ہے؟ ہم نے مسروق سے کہا: تم پوچھو۔ انہوں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ دروازہ عمر رضی اللہ عنہ کی ذات تھی۔

صحيح مسلم # 7268
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp