وحدثني يعقوب بن إبراهيم الدورقي ، وحجاج بن الشاعر جميعا، عن ابي عاصم ، قال حجاج، حدثنا ابو عاصم، اخبرنا عزرة بن ثابت ، اخبرنا علباء بن احمر ، حدثني ابو زيد يعني عمرو بن اخطب ، قال: " صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الفجر وصعد المنبر، فخطبنا حتى حضرت الظهر، فنزل فصلى ثم صعد المنبر، فخطبنا حتى حضرت العصر ثم نزل، فصلى ثم صعد المنبر، فخطبنا حتى غربت الشمس، فاخبرنا بما كان وبما هو كائن فاعلمنا احفظنا ".
سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھی اور منبر پر چڑھے، پھر وعظ سنایا ہم کو یہاں تک کہ ظہر کا وقت آ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور نماز پڑھی، پھر منبر پر چڑھے اور وعظ سنایا ہم کو یہاں تک کہ عصر کا وقت آ گیا، پھر اترے اور نماز پڑھی، پھر منبر پر چڑھے اور وعظ سنایا ہم کو یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو خبر دی ہم کو ان باتوں سے جو ہو چکی تھیں اور جو ہونے والی ہیں اور سب سے زیادہ ہم میں عالم وہ ہے جس نے سب سے زیادہ ان باتوں کو یاد رکھا ہو۔