كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثني ابو كامل فضيل بن حسين الجحدري ، حدثنا حماد بن زيد ، عن ايوب ، ويونس ، عن الحسن ، عن الاحنف بن قيس ، قال: خرجت وانا اريد هذا الرجل فلقيني ابو بكرة ، فقال: اين تريد يا احنف؟ قال: قلت: اريد نصر ابن عم رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني عليا، قال: فقال لي: يا احنف ارجع، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " إذا تواجه المسلمان بسيفيهما، فالقاتل والمقتول في النار "، قال: فقلت: او قيل: يا رسول الله هذا القاتل فما بال المقتول؟، قال: " إنه قد اراد قتل صاحبه ".

‏‏‏‏ احنف بن قیس سے روایت ہے، میں نکلا اس ارادہ سے کہ اس شخص کا شریک ہوں گا (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بمقابلہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے) راہ میں مجھ سے ابوبکرہ ملے، کہنے لگے: تم کہاں جاتے ہو اے احنف!؟ میں نے کہا: میں چاہتا ہوں مدد کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی کی یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی۔ ابوبکرہ نے کہا: تم لوٹ جاؤ اے احنف! کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جب دو مسلمان اپنی تلوار لے کر بھڑیں تو مارنے والا اور جو مارا جائے دونوں جہنمی ہیں۔ میں نے عرض کیا یا کسی اور نے کہا: یا رسول اللہ! قاتل تو جہنم میں جائے گا لیکن مقتول کیوں جہنم جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: : وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کے درپے تھا۔

صحيح مسلم # 7252
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp