كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

حدثني ابو كامل الجحدري فضيل بن حسين، ، حدثنا حماد بن زيد ، حدثنا عثمان الشحام ، قال: انطلقت انا وفرقد السبخي إلى مسلم بن ابي بكرة وهو في ارضه، فدخلنا عليه، فقلنا: هل سمعت اباك يحدث في الفتن حديثا؟، قال: نعم سمعت ابا بكرة يحدث، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنها ستكون فتن، الا ثم تكون فتنة القاعد فيها خير من الماشي فيها، والماشي فيها خير من الساعي إليها، الا فإذا نزلت او وقعت، فمن كان له إبل فليلحق بإبله، ومن كانت له غنم فليلحق بغنمه، ومن كانت له ارض فليلحق بارضه "، قال: فقال رجل: يا رسول الله، ارايت من لم يكن له إبل ولا غنم ولا ارض؟، قال: " يعمد إلى سيفه فيدق على حده بحجر، ثم لينج إن استطاع النجاء، اللهم هل بلغت، اللهم هل بلغت، اللهم هل بلغت " قال: فقال رجل: يا رسول الله، ارايت إن اكرهت حتى ينطلق بي إلى احد الصفين او إحدى الفئتين، فضربني رجل بسيفه او يجيء سهم، فيقتلني، قال: " يبوء بإثمه وإثمك ويكون من اصحاب النار "،

‏‏‏‏ عثمان شحام سے روایت ہے، میں اور فرقد سبخی دونوں مسلم بن ابی بکرہ کے پاس گئے وہ اپنی زمین میں تھے ہم ان کے پاس گئے اور ہم نے کہا: تم نے سنا ہے اپنے باپ سے فتنوں کے باب میں کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں میں نے سنا ہے ابوبکرہ سے، وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک کئی فتنے ہوں گے خبردار ہو، ہاں کئی فتنے ہوں گے، بیٹھنے والا ان میں بہتر ہو گا چلنے والے سے۔ اور چلنے والا ان میں بہتر ہو گا دوڑنے والے سے۔ خبردار رہو! جب فتنے اور فساد اتریں یا واقع ہو تو جس کے اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں جا ملے اور جس کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں جا ملے اور جس کی زمین ہو (کھیتی کی) وہ اپنی زمین میں جا رہے۔ ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! جس کے اونٹ نہ ہوں، نہ بکریاں، نہ زمین وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی تلوار اٹھائے اور پتھر سے اس کی باڑھ کو کوٹ ڈالے (یعنی لڑنے کی کوئی چیز باقی نہ رکھے جو حوصلہ ہو لڑائی کا)، پھر جلدی کرے اپنے بچاؤ میں جتنی ہو سکے۔ الہٰی میں نے تیرا حکم پہنچا دیا، الہیٰ میں نے تیرا حکم پہنچا دیا۔ ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! بتلایئے اگر مجھ پر زبردستی کریں یہاں تک کہ دو صفوں میں سے یا دو گروہوں میں سے ایک میں لے جائیں، پھر وہاں کوئی مجھ کو تلوار مارے یا تیر آئے اور مجھ کو قتل کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنا اور تیرا گناہ سمیٹ لے گا اور دوزخ میں جائے گا۔

صحيح مسلم # 7250
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp