كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ فتنے اور علامات قیامت

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا يونس بن محمد ، حدثنا القاسم بن الفضل الحداني ، عن محمد بن زياد ، عن عبد الله بن الزبير ، ان عائشة ، قالت: عبث رسول الله صلى الله عليه وسلم في منامه، فقلنا: يا رسول الله، صنعت شيئا في منامك لم تكن تفعله؟، فقال: " العجب إن ناسا من امتي يؤمون بالبيت برجل من قريش، قد لجا بالبيت حتى إذا كانوا بالبيداء خسف بهم "، فقلنا: يا رسول الله، إن الطريق قد يجمع الناس، قال: " نعم، فيهم المستبصر والمجبور، وابن السبيل يهلكون مهلكا واحدا، ويصدرون مصادر شتى يبعثهم الله على نياتهم ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوتے میں اپنے ہاتھ پاؤں ہلائے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے سوتے میں وہ کام کیا جو نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تعجب ہے کچھ لوگ میری امت کے ایک شخص کے لیے کعبہ کا قصد کریں گے جو قریش میں سے ہو گا اور پناہ لے گا خانہ کعبہ کی۔ جب وہ بیداء میں پہنچیں گے (بیداء صاف میدان) تو دھنس جائیں گے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی راہ میں تو سب قسم کے لوگ چلتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ان میں ایسے لوگ ہوں گے جو قصداً آئے ہوں گے اور جو مجبوری سے آئے ہوں گے اور مسافر بھی ہوں گے لیکن یہ سب ایک بارگی ہلاک ہو جائیں گے پھر (قیامت کے دن) مختلف نیتوں پر اللہ ان کو اٹھائے گا . (اس حدیث سے یہ نکلا کہ ظالموں اور فاسقوں سے دور رہنے میں بچاؤ ہے ورنہ ان کے ساتھ ہلاکت کا ڈر ہے)۔

صحيح مسلم # 7244
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp