وحدثني محمد بن حاتم بن ميمون ، حدثنا الوليد بن صالح ، حدثنا عبيد الله بن عمرو ، حدثنا زيد بن ابي انيسة ، عن عبد الملك العامري ، عن يوسف بن ماهك ، اخبرني عبد الله بن صفوان ، عن ام المؤمنين ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " سيعوذ بهذا البيت يعني الكعبة قوم ليست لهم منعة، ولا عدد ولا عدة، يبعث إليهم جيش حتى إذا كانوا ببيداء من الارض خسف بهم "، قال يوسف: واهل الشام يومئذ يسيرون إلى مكة، فقال عبد الله بن صفوان: اما والله ما هو بهذا الجيش، قال زيد: وحدثني عبد الملك العامري ، عن عبد الرحمن بن سابط ، عن الحارث بن ابي ربيعة ، عن ام المؤمنين بمثل حديث يوسف بن ماهك، غير انه لم يذكر فيه الجيش الذي ذكره عبد الله بن صفوان.
ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، (راوی نے نام نہیں لیا اور مراد سیدہ حفصہ ہیں یا سیدہ عائشہ یا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر یعنی کعبہ کی پناہ ایسے لوگ لیں گے جن کے پاس روک نہ ہو گی (یعنی دشمن کے روکنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں گے) نہ ان کا شمار بہت ہو گا، نہ سامان ہو گا۔ ان کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا۔ جب وہ زمین کے ایک صاف میدان میں پہنچیں گے تو دھنس جائیں گے۔“ یوسف نے کہا: ان دنوں شام والے مکہ والوں سے لڑنے کے لیے آ رہے تھے (یعنی حجاج کا لشکر جو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کو آتا تھا) عبداللہ بن صفوان نے کہا: وہ یہ لشکر نہیں ہے اللہ کی قسم! جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دھنس جائے گا۔