كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت

حدثنا هداب بن خالد ، حدثنا حماد بن سلمة ، عن ثابت البناني ، عن انس بن مالك ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ترك قتلى بدر ثلاثا ثم اتاهم، فقام عليهم فناداهم، فقال: يا ابا جهل بن هشام، يا امية بن خلف، يا عتبة بن ربيعة، يا شيبة بن ربيعة اليس قد وجدتم ما وعد ربكم حقا؟ فإني قد وجدت ما وعدني ربي حقا "، فسمع عمر قول النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، كيف يسمعوا وانى يجيبوا وقد جيفوا؟، قال: " والذي نفسي بيده ما انتم باسمع لما اقول منهم، ولكنهم لا يقدرون ان يجيبوا "، ثم امر بهم فسحبوا فالقوا في قليب بدر "،

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مقتولین کو تین روز تک یوں ہی پڑا رہنے دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان کو آواز دی تو فرمایا: اے ابوجہل بن ہشام اور اے امیہ بن خلف اور اے عتبہ بن ربیعہ اور اے شیبہ بن ربیعہ! کیا تم نے پایا جو اللہ تعالیٰ نے تم سے سچا وعدہ کیا؟ کیونکہ میں نے تو پایا جو اللہ نے مجھ سے سچا وعدہ کیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا سنا، تو عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیا سنتے ہیں اور کب جواب دیتے ہیں؟ یہ تو مردار ہو کر سڑ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں جو کہہ رہا ہوں اس کو تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سنتے البتہ یہ اور بات ہے کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا وہ کھینچے گئے اور بدر کے کنویں میں ڈال دئیے گئے۔

صحيح مسلم # 7223
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp