كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت

حدثني إسحاق بن عمر بن سليط الهذلي ، حدثنا سليمان بن المغيرة ، عن ثابت ، قال: قال انس : كنت مع عمر. ح وحدثنا شيبان بن فروخ واللفظ له، حدثنا سليمان بن المغيرة ، عن ثابت ، عن انس بن مالك ، قال: كنا مع عمر بين مكة والمدينة، فتراءينا الهلال وكنت رجلا حديد البصر، فرايته وليس احد يزعم انه رآه غيري، قال: فجعلت اقول لعمر اما تراه، فجعل لا يراه، قال: يقول عمر : ساراه وانا مستلق على فراشي، ثم انشا يحدثنا عن اهل بدر، فقال: " إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرينا مصارع اهل بدر بالامس، يقول: هذا مصرع فلان غدا إن شاء الله، قال: فقال عمر: فوالذي بعثه بالحق ما اخطئوا الحدود التي حد رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فجعلوا في بئر بعضهم على بعض، فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى انتهى إليهم، فقال: يا فلان بن فلان ويا فلان بن فلان، هل وجدتم ما وعدكم الله ورسوله حقا؟ فإني قد وجدت ما وعدني الله حقا، قال عمر: يا رسول الله، كيف تكلم اجسادا لا ارواح فيها؟، قال: ما انتم باسمع لما اقول منهم غير انهم لا يستطيعون ان يردوا علي شيئا ".

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے مکہ اور مدینہ کے بیچ میں تو ہم سب لوگ چاند دیکھنے لگے۔ میری نگاہ تیز تھی میں نے چاند کو دیکھ لیا اور میرے سوا کسی نے نہ کہا کہ ہم نے چاند کو دیکھا۔ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا: تم چاند نہیں دیکھتے، دیکھو یہ چاند ہے، ان کو دکھلائی نہ دیا، وہ کہنے لگے مجھے تھوڑی دیر میں دکھلائی دے گا (جب ذرا روشن ہو گا) اور میں اپنے بچھونے پر چت پڑا تھا، پھر انہوں نے ہم سے بدر والوں کا قصہ شروع کیا۔ وہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو کل کے دن (یعنی لڑائی سے پہلے ایک دن) بدر والوں کے گرنے کے مقام بتلانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ چاہے تو کل کے دن فلاں یہاں گرے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اس کی جس نے آپ کو سچا کلام دے کر بھیجا، جو حدیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھیں وہ وہاں سے نہ ہٹے (یعنی ہر ایک کافر اسی مقام میں مارا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کر دیا تھا)۔ پھر وہ سب ایک کنویں میں دھکیل دئیے گئے ایک دوسرے کے اوپر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور ان کے پاس تشریف لے گئے، پھر پکارا: اے فلاں، فلاں کے بیٹے! اے فلاں، فلاں کے بیٹے! جو اللہ اور اس کے رسول نے تم سے وعدہ کیا وہ تم نے پایا (اور اس کا عذاب دیکھا) میں نے تو پایا جو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے سچا وعدہ کیا تھا . (کہ تمہاری فتح ہو گی اور کافر مارے جائیں گے)۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ان بدنوں سے کلام کرتے ہیں جن میں جان نہیں ہے (وہ کیا سنیں گے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جو کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ اس کو نہیں سنتے البتہ اتنا فرق ہے کہ وہ کچھ جواب نہیں دے سکتے۔

صحيح مسلم # 7222
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp