وحدثني ابو عمار حسين بن حريث ، حدثنا الفضل بن موسى ، عن الحسين ، عن مطر ، حدثني قتادة ، عن مطرف بن عبد الله بن الشخير ، عن عياض بن حمار اخي بني مجاشع، قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم خطيبا، فقال: إن الله امرني وساق الحديث بمثل حديث هشام، عن قتادة وزاد فيه، وإن الله اوحى إلي ان تواضعوا حتى لا يفخر احد على احد ولا يبغ احد على احد، وقال في حديثه: وهم فيكم تبعا لا يبغون اهلا ولا مالا، فقلت: فيكون ذلك يا ابا عبد الله، قال: نعم والله لقد ادركتهم في الجاهلية، وإن الرجل ليرعى على الحي ما به إلا وليدتهم يطؤها.
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم کیا مجھ کو تواضع کرنے کا اس طرح پر کہ کوئی فخر نہ کرے دوسرے پر نہ کوئی زیادتی کرے دوسرے پر۔ اور اس روایت میں یہ ہے کہ وہ لوگ تم میں تابعدار ہیں نہ گھر والی چاہیں نہ مال۔ قتادہ نے کہا: ایسا ہو گا اے ابوعبداللہ، مطرف بن عبداللہ نے کہا: (انہی کی کنیت ابوعبداللہ ہے) ہاں، اللہ کی قسم! میں نے ان کو جاہلیت کے زمانہ میں پایا ایک شخص کسی قبیلہ کی بکریاں چراتا وہاں کوئی نہ ملتی اس کو مگر گھر والوں کی لونڈی اسی سے جماع کرتا۔