حدثني عمرو الناقد ، وحسن الحلواني ، وعبد بن حميد ، قال عبد بن حميد: اخبرني، وقال الآخران: حدثنا يعقوب وهو ابن إبراهيم بن سعد ، حدثنا ابي ، عن صالح ، عن ابن شهاب ، قال: سمعت سعيد بن المسيب ، يقول: إن البحيرة التي يمنع درها للطواغيت، فلا يحلبها احد من الناس، واما السائبة التي كانوا يسيبونها لآلهتهم، فلا يحمل عليها شيء، وقال ابن المسيب، قال ابو هريرة ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " رايت عمرو بن عامر الخزاعي يجر قصبه في النار، وكان اول من سيب السيوب ".
سعید بن مسیّب کہتے تھے: بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ دوہنا موقوف کیا جاتا ہے بتوں کے لیے، تو کوئی آدمی اس جانور کا دودھ نہ دوھ سکتا اور سائبہ وہ ہے جس کو اپنے معبودوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اس پر کوئی بوجھ نہ لادتے تھے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا وہ اپنی آنتیں جہنم میں کھینچ رہا تھا اور سب سے پہلے سائبہ اسی نے نکالا۔“