حدثنا عثمان بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم واللفظ لعثمان، قال عثمان: حدثنا، وقال إسحاق: اخبرنا جرير ، عن الاعمش ، عن ابي سفيان ، عن جابر ، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: " إن اهل الجنة ياكلون فيها ويشربون، ولا يتفلون، ولا يبولون، ولا يتغوطون، ولا يمتخطون "، قالوا: فما بال الطعام؟، قال: " جشاء ورشح كرشح المسك يلهمون التسبيح والتحميد كما تلهمون النفس "،
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جنت کے لوگ کھائیں گے اور پئیں گے، لیکن نہ تھوکیں گے، نہ پیشاب کریں گے، نہ پاخانہ کریں گے، نہ ناک سنکیں گے۔“ لوگوں نے عرض کیا: پھر کھانا کدھر جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ڈکار ہو گی اور پسینہ آئے گا، اس میں مشک کی خوشبو ہو گی۔ (پس ڈکار اور پسینہ سے کھانا تحلیل ہو جائے گا) اور تسبیح اور تحمید (یعنی سبحان اللہ اور الحمد للہ) کا ان کو الہام ہو گا جیسے سانس کا الہام ہوتا ہے۔“