كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام

حدثني ابو كريب محمد بن العلاء ، حدثنا حفص يعني ابن غياث ، عن الاعمش ، عن ابي سفيان ، عن جابر ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم من سفر، فلما كان قرب المدينة هاجت ريح شديدة تكاد ان تدفن الراكب، فزعم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " بعثت هذه الريح لموت منافق "، فلما قدم المدينة فإذا منافق عظيم من المنافقين قد مات ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آ رہے تھے جب مدینہ کے قریب پہنچے تو زور کی ہوا چلی ایسے زور سے کہ سوار زمین میں دبنے کے قریب ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہوا کسی منافق کے مرنے کے لیے چلی ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو ایک برا منافق منافقوں میں سے مر گیا (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا)۔

صحيح مسلم # 7041
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp