حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري ، حدثنا ابي ، حدثنا قرة بن خالد ، عن ابي الزبير ، عن جابر بن عبد الله ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من يصعد الثنية ثنية المرار، فإنه يحط عنه ما حط عن بني إسرائيل "، قال: فكان اول من صعدها خيلنا خيل بني الخزرج ثم تتام الناس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " وكلكم مغفور له إلا صاحب الجمل الاحمر "، فاتيناه، فقلنا له: تعال يستغفر لك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: والله لان اجد ضالتي احب إلي من ان يستغفر لي صاحبكم، قال: وكان رجل ينشد ضالة له "،
سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون شخص مرار کی گھاٹی پر چڑھ جاتا ہے اس کے گناہ ایسے معاف ہو جائیں گے جیسے بنی اسرائیل کے معاف ہو گئے تھے؟“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو سب سے پہلے اس گھاٹی پر ہمارے گھوڑے چڑھے یعنی خزرج قبیلہ کے لوگوں کے، پھر لوگوں کا تار بندھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی بخشش ہو گئی مگر لال اونٹ والے کی نہیں۔“ ہم اس شخص کے پاس گئے اور ہم نے کہا: چل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ وہ بولا: اللہ کی قسم! میں اپنی گم شدہ چیز پاؤں تو مجھے زیادہ پسند ہے تمہارے صاحب کی دعا سے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ شخص اپنی گم شدہ چیز ڈھونڈھ رہا تھا (وہ منافق تھا جب تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی بخشش نہیں ہوئی اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا فرمایا تھا وہ شخص ویسا ہی نکلا)۔