حدثنا زهير بن حرب ، وهارون بن عبد الله واللفظ لزهير، قالا: حدثنا حجاج بن محمد ، عن ابن جريج ، اخبرني ابن ابي مليكة ، ان حميد بن عبد الرحمن بن عوف اخبره، ان مروان، قال: اذهب يا رافع لبوابه إلى ابن عباس، فقل: لئن كان كل امرئ منا فرح بما اتى واحب ان يحمد بما لم يفعل معذبا لنعذبن اجمعون، فقال ابن عباس: " ما لكم ولهذه الآية إنما انزلت هذه الآية في اهل الكتاب، ثم تلا ابن عباس وإذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس ولا تكتمونه سورة آل عمران آية 187 هذه الآية وتلا ابن عباس لا تحسبن الذين يفرحون بما اتوا ويحبون ان يحمدوا بما لم يفعلوا سورة آل عمران آية 188، وقال ابن عباس : سالهم النبي صلى الله عليه وسلم عن شيء، فكتموه إياه واخبروه بغيره، فخرجوا قد اروه ان قد اخبروه بما سالهم عنه، واستحمدوا بذلك إليه وفرحوا بما اتوا من كتمانهم إياه ما سالهم عنه.
حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے، مروان نے کہا: اپنے دربان رافع سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جا اور کہہ اگر ہم میں سے ہر ایک اس آدمی کو عذاب ہو جو اپنے کیے پر خوش ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں اس بات پر جو اس نے نہیں کی تو ہم سب کو عذاب ہو گا (کیونکہ ہم سب میں یہ عیب موجود ہو گا)۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تم کو اس آیت سے کیا تعلق ہے یہ آیت اہل کتاب کے حق میں اتری ہے، پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: «وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ» (آل عمران: ۱۸۷) آخر تک پھر اس آیت کو پڑھا «لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوا وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا» (آل عمران: ۱۸۸)۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب سے کوئی بات پوچھی: انہوں نے اس کو چھپایا اور اس کے بدلے دوسری بات بتائی، پھر نکلے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سمجھایا کہ ہم نے بتا دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھی اور اپنی تعریف کے خواستگار ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دل میں خوش ہوئے اپنے کیے پر (یعنی اصل بات کے چھپانے پر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھی تھی تو اللہ تعالیٰ انہیں کو فرماتا ہے کہ ان کو عذاب ہو گا اور مراد وہی اہل کتاب ہیں)۔