كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام

حدثنا الحسن بن علي الحلواني ، ومحمد بن سهل التميمي ، قالا: حدثنا ابن ابي مريم ، اخبرنا محمد بن جعفر ، اخبرني زيد بن اسلم ، عن عطاء بن يسار ، عن ابي سعيد الخدري " ان رجالا من المنافقين في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا إذا خرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى الغزو، تخلفوا عنه وفرحوا بمقعدهم خلاف رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإذا قدم النبي صلى الله عليه وسلم اعتذروا إليه وحلفوا واحبوا ان يحمدوا بما لم يفعلوا، فنزلت لا تحسبن الذين يفرحون بما اتوا ويحبون ان يحمدوا بما لم يفعلوا فلا تحسبنهم بمفازة من العذاب سورة آل عمران آية 188 ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کچھ منافق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسے تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی ہر جاتے تو وہ پیچھے رہ جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گھر بیٹھنے سے خوش ہوتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذر کرتے اور قسم کھاتے اور یہ چاہتے کہ لوگ ان کی تعریف کریں ان کا کاموں پر جو انہوں نے نہیں کئے، تب اللہ نے یہ آیت اتاری: «لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوا وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ» مت سمجھ ان لوگوں کو جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے سے اور چاہتے ہیں کہ تعریف کیے جائیں ان کاموں پر جو انہوں نے نہیں کیے کہ وہ چھٹکارا پائیں گے عذاب سے ان کو دکھ کی مار ہے۔

صحيح مسلم # 7033
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp