كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام

حدثنا محمد بن ابي عمر المكي ، حدثنا سفيان ، عن منصور ، عن مجاهد ، عن ابي معمر ، عن ابن مسعود ، قال: " اجتمع عند البيت ثلاثة نفر قرشيان وثقفي او ثقفيان وقرشي قليل، فقه قلوبهم كثير شحم بطونهم، فقال احدهم: اترون الله يسمع ما نقول؟، وقال الآخر: يسمع إن جهرنا ولا يسمع إن اخفينا، وقال الآخر: إن كان يسمع إذا جهرنا فهو يسمع إذا اخفينا، فانزل الله عز وجل وما كنتم تستترون ان يشهد عليكم سمعكم ولا ابصاركم ولا جلودكم سورة فصلت آية 22 " الآية،

‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیت اللہ کے پاس تین آدمی اکھٹے ہوئے اور ان میں سے دو قریش کے تھے اور ایک ثقیف کا یا دو ثقیف کے تھے اور ایک قریش کا تھا، ان کے دلوں میں سمجھ کم تھی اور ان کے پیٹوں میں بہت چربی تھی (اس سے معلوم ہوا کہ مٹاپے کے ساتھ دانائی کم ہوتی ہے) ایک شخص ان میں سے بولا: کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ سنتا ہے جو ہم کہتے ہیں اور دوسرا یہ بولا: اگر ہم پکاریں تو سنے گا اور چپکے سے بولیں تو نہیں سنے گا اور تیسرا بولا: اگر وہ سنتا ہے جب ہم پکار کر بولتے ہیں تو آہستہ بولیں گے جب بھی سنے گا تب اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری «وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَـٰكِن ظَنَنتُمْ أَنَّ اللَّـهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِّمَّا تَعْمَلُونَ» (فصلت: ٢٢) یعنیتم اس لیے نہیں چھپاتے تھے کہ تم پر گواہی دیں گے کان اور آنکھ اور کھالیں تمہاری (لیکن تم نے یہ خیال کیا کہ اللہ نہیں جانتا بہت کام جو تم کرتے ہو)۔

صحيح مسلم # 7029
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp