كِتَاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا الحسن بن موسى ، حدثنا زهير بن معاوية ، حدثنا ابو إسحاق ، انه سمع زيد بن ارقم ، يقول: " خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر اصاب الناس فيه شدة، فقال عبد الله بن ابي لاصحابه: لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا من حوله، قال زهير: وهي قراءة من خفض حوله، وقال: لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل، قال: فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم، فاخبرته بذلك، فارسل إلى عبد الله بن ابي فساله فاجتهد يمينه ما فعل، فقال: كذب زيد رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فوقع في نفسي مما قالوه شدة حتى انزل الله تصديقي إذا جاءك المنافقون سورة المنافقون آية 1، قال: ثم دعاهم النبي صلى الله عليه وسلم ليستغفر لهم، قال: فلووا رءوسهم، وقوله كانهم خشب مسندة سورة المنافقون آية 4، وقال: كانوا رجالا اجمل شيء ".

‏‏‏‏ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایک سفر میں نکلے، جس میں لوگوں کو بہت تکلیف ہوئی (کھانے اور پینے کی) عبداللہ بن ابی (منافق) نے اپنے یاروں سے کہا: ان لوگوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں کچھ مت دو یہاں تک کہ وہ بھاگ نکلیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے۔ زہیر نے کہا: یہ قرأت ہے اس شخص کی جس نے «من حوله» پڑھا ہے (اور یہی قرأت مشہور ہے اور قرأت شاذ «من حوله» ہے یعنی یہاں تک کہ بھاگ جائیں وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد ہیں) اور عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ کو لوٹیں گے تو البتہ عزت والا (مردود نے اپنے تئیں عزت والا قرار دیا) نکال دے گا ذلت والے کو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذلت والا قرار دیا مردود نے) میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کے پاس کہلا بھیجا اور پچھوایا اس سے۔ اس نے قسم کھائی کہ میں نے ایسا نہیں کہا اور بولا: کہ زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا، اس بات سے میرے دل کو بہت رنج ہوا، یہاں تک کہ اللہ نے مجھ کو سچا کیا اور سورہ «إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ» اتری، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا ان کے لیے دعا کرنے کو مغفرت کی لیکن انہوں نے اپنے سر موڑ لیے (یعنی نہ آئے) اور اللہ نے ان کے حق میں فرمایا ہے: «كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ» گویا وہ لکڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئیں۔ زید نے کہا: وہ لوگ ظاہر میں خوب اور اچھے معلوم ہوتے تھے۔

صحيح مسلم # 7024
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp