وحدثني سلمة بن شبيب ، حدثنا الحسن بن اعين ، حدثنا معقل وهو ابن عبيد الله ، عن الزهري ، اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك ، عن عمه عبيد الله بن كعب ، وكان قائد كعب حين اصيب بصره، وكان اعلم قومه واوعاهم لاحاديث اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: سمعت ابي كعب بن مالك وهو احد الثلاثة الذين تيب عليهم يحدث انه لم يتخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة غزاها قط، غير غزوتين وساق الحديث، وقال فيه: وغزا رسول الله صلى الله عليه وسلم بناس كثير يزيدون على عشرة آلاف ولا يجمعهم ديوان حافظ.
عبیداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی قوم میں سب سے زیادہ علم رکھتے تھے اور سب سے زیادہ ان کو حدیثیں یاد تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ان تینوں شخصوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے معاف کیا۔ وہ حدیثیں بیان کرتے تھے کہ وہ نہیں پیچھے رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی لڑائی میں سوا دو لڑائیوں کے، پھر بیان کیا وہی قصہ۔ اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے آدمیوں کے ساتھ جہاد کیا جن کی تعداد دس (۱۰) ہزار سے زیادہ تھی اور کسی دفتر میں ان کا نام نہ تھا۔