كِتَاب التَّوْبَةِ توبہ کا بیان

حدثنا زهير بن حرب ، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم ، عن هشام الدستوائي ، عن قتادة ، عن صفوان بن محرز ، قال: قال رجل لابن عمر : كيف سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في النجوى؟، قال: سمعته، يقول: " يدنى المؤمن يوم القيامة من ربه عز وجل حتى يضع عليه كنفه، فيقرره بذنوبه، فيقول: هل تعرف؟، فيقول: اي رب اعرف، قال: فإني قد سترتها عليك في الدنيا، وإني اغفرها لك اليوم، فيعطى صحيفة حسناته، واما الكفار والمنافقون، فينادى بهم على رءوس الخلائق هؤلاء الذين كذبوا على الله ".

‏‏‏‏ صفواں بن محرز سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے سرگوشی کے باب میں۔ (یعنی اللہ تعالیٰ جو قیامت کے دن اپنے بندہ سے سرگوشی کرے گا) انہوں نے کہا: میں نے آپ سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: مؤمن قیامت کے دن اپنے مالک کے پاس لایا جائے گا یہاں تک کہ مالک اپنا پردہ اس پر رکھ دے گا اور اس سے اقرار کروائے گا اس کے گناہوں کا اور کہے گا: تو پہچانتا ہے اپنے گناہوں کو؟ وہ کہے گا: اے رب میں پہچانتا ہوں۔ پروردگار فرمائے گا: تو میں نے چھپا دیا ان گناہوں کو تجھ پر دنیا میں اور اب میں بخش دیتا ہوں ان کو آج کے دن تیرے لیے۔ پھر وہ نیکیوں کی کتاب دیا جائے گا اور کافر اور منافقوں کے لیے تو مخلوقات کے سامنے منادی ہو گی کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا: اللہ تعالیٰ پر۔

صحيح مسلم # 7015
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp