حدثنا نصر بن علي الجهضمي ، وزهير بن حرب واللفظ لزهير، قالا: حدثنا عمر بن يونس ، حدثنا عكرمة بن عمار ، حدثنا شداد ، حدثنا ابو امامة ، قال: بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد، ونحن قعود معه إذ جاء رجل، فقال: يا رسول الله، إني اصبت حدا فاقمه علي، فسكت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم اعاد، فقال: يا رسول الله، إني اصبت حدا، فاقمه علي، فسكت عنه واقيمت الصلاة، فلما انصرف نبي الله صلى الله عليه وسلم، قال ابو امامة: فاتبع الرجل رسول الله صلى الله عليه وسلم حين انصرف، واتبعت رسول الله صلى الله عليه وسلم انظر ما يرد على الرجل، فلحق الرجل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله إني اصبت حدا فاقمه علي، قال ابو امامة: فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ارايت حين خرجت من بيتك اليس قد توضات، فاحسنت الوضوء؟ "، قال: بلى، يا رسول الله، قال: " ثم شهدت الصلاة معنا؟ "، فقال: نعم، يا رسول الله، قال: فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: " فإن الله قد غفر لك حدك او قال ذنبك ".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور ہم لوگ بھی بیٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھ سے حد کا کام ہوا ہے تو حد لگائیے مجھ کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلم یہ سن کر چپ ہو رہے، اس نے پھر کہا: یا رسول اللہ! میں نے حد کا کام کیا تو حد لگائیے مجھ پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے، اس نے تیسری بار بھی ایسا ہی کہا: اتنے میں نماز کھڑی ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، جب آپ فارغ ہوئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا یہ دیکھنے کو کہ آپ کیا جواب دیتے ہیں اس شخص کو، پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے حد کا کام کیا تو مجھ پر حد لگائیے۔ ابوامامہ نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس وقت تو اپنے گھر سے نکلا تھا تو نے اچھی طرح سے وضو نہیں کیا؟“ وہ بولا: کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟“ وہ بولا: ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ نے بخش دیا تیری حد کو یا تیرے گناہ کو۔“ باب: خون کرنے والے کی توبہ قبول ہو گی