حدثنا الحسن بن علي الحلواني ، حدثنا عمرو بن عاصم ، حدثنا همام ، عن إسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة ، عن انس ، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: " يا رسول الله، اصبت حدا فاقمه علي، قال: وحضرت الصلاة، فصلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما قضى الصلاة، قال: يا رسول الله، إني اصبت حدا، فاقم في كتاب الله، قال: هل حضرت الصلاة معنا؟، قال: نعم، قال: " قد غفر لك ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے حد کا کام کیا تو مجھ پر حد قائم کیجئیے اور نماز کا وقت آ گیا تھا، پھر اس نے نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، جب نماز پڑھ چکا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے حد کا کام کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے موافق مجھے حد لگائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نماز میں ہمارے ساتھ تھا“ وہ بولا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بخش دیا تجھ کو۔“