حدثنا محمد بن رافع ، وعبد بن حميد ، قال عبد: اخبرنا، وقال ابن رافع واللفظ له: حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا معمر ، قال: قال لي الزهري : الا احدثك بحديثين عجيبين؟، قال الزهري اخبرني حميد بن عبد الرحمن ، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " اسرف رجل على نفسه، فلما حضره الموت اوصى بنيه، فقال: إذا انا مت فاحرقوني ثم اسحقوني ثم اذروني في الريح في البحر، فوالله لئن قدر علي ربي ليعذبني عذابا ما عذبه به احدا، قال: ففعلوا ذلك به، فقال للارض: ادي ما اخذت، فإذا هو قائم، فقال له: ما حملك على ما صنعت؟، فقال: خشيتك يا رب او قال مخافتك فغفر له بذلك " ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص نے گناہ کیے تھے جب مرنے لگا تو اپنے بیٹے کو وصیت کی کہ مرنے کے بعد مجھ کو جلانا، پھر میری راکھ باریک پیسنا، پھر دریا میں، ہوا میں اڑا دینا کیونکہ اللہ کی قسم! اگر پروردگار نے تنگ پکرا مجھ کو تو ایسا عذاب کرے گا کہ ویسا عذاب کسی کو نہ کیا ہو گا، اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے زمین سے فرمایا: جو تو نے اس کی خاک لی ہے وہ اکھٹی کر دے، پھر وہ پورا ہو کر کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ وہ بولا: تیرے ڈر سے اے پروردگار، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔