حدثنا يحيى بن يحيى ، وجعفر بن حميد ، قال جعفر: حدثنا، وقال يحيى: اخبرنا عبيد الله بن إياد بن لقيط ، عن إياد ، عن البراء بن عازب ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " كيف تقولون بفرح رجل انفلتت منه راحلته تجر زمامها بارض قفر ليس بها طعام ولا شراب،؟ وعليها له طعام وشراب، فطلبها حتى شق عليه ثم مرت بجذل شجرة، فتعلق زمامها فوجدها متعلقة به؟ "، قلنا: شديدا يا رسول الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اما والله لله اشد فرحا بتوبة عبده من الرجل براحلته "، قال جعفر: حدثنا عبيد الله بن إياد، عن ابيه.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا کہتے ہو اس شخص کو کتنی خوشی ہو گی جس کا اونٹ بھاگ جائے اپنی نکیل کھینچتا ہوا ایسے پٹ پر میدان میں جہاں نہ کھانا ہو، نہ پانی اور اس کا کھانا اور پانی سب اسی اونٹ پر ہو، پھر وہ اس کو ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے تھک جائے۔ آخر وہ اونٹ ایک درخت کی جڑ پر گزرے اور اس کی نکیل اس جڑ سے اٹک جائے، پھر وہ شخص اس اونٹ کو اس درخت سے اٹکا ہوا پائے۔“ ہم لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس شخص کو بہت خوشی ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار ہو جاؤ البتہ اللہ کی قسم! اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوشی ہوتی ہے۔“